خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 433
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۳ جلد سوم بعد ان کے خلفاء کے طور پر ظاہر ہوتا رہا جن کا کام حضرت موسی کے کام کی تکمیل تھا۔اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام تھے جن کو کئی مسلمان غلطی سے صاحب شریعت نبی سمجھتے ہیں۔اسی طرح اس زمانہ کے مسیحی بھی اُن کی نسبت یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ وہ ایک نیا قانون لے کر آئے تھے اور اسی وجہ سے وہ اُن کی کتاب کو نیا عہد نامہ کہتے ہیں حالانکہ قرآن کریم مسیح ناصری علیہ السلام کو حضرت موسی کے دین کا قائم کرنے والا ایک۔۔خلیفہ قرار دیتا ہے۔جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے چند آیات بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وقَفَّيْنَا عَلَى أَثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيو من التورية یعنی ہم نے مذکورہ بالا نبیوں کے بعد جو تورات کی تعلیم کو جاری کرنے کے لئے آئے تھے عیسی بن مریم کو بھیجا جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے تھے اور تورات کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے تھے۔خود مسیح ناصری بھی فرماتے ہیں کہ :۔یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں میں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ملے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے، ۱۴۔غرض یوشع سے لیکر جو حضرت موسی کی وفات کے معا بعد ان کے خلیفہ ہوئے حضرت مسیح ناصری تک سب انبیاء اور مجددین حضرت موسی کے خلیفہ اور ان کی شریعت کو جاری کرنے والے تھے۔پس جب خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا کہ لِيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قبلهم تو اس سے یہ استنباط ہوا کہ پہلی خلافتوں والی برکات قَبْلِهِمْ مسلمانوں کو بھی ملیں گی اور انبیائے سابقین سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ سلوک کیا وہی سلوک وہ اُمت محمدیہ کے خلفاء کے ساتھ بھی کرے گا۔اگر کوئی کہے کہ پہلے تو خلافت ملوکیت کا بھی ذکر آتا ہے پھر خلافت ملوکیت کا ذکر چھوڑ کر صرف خلافت نبوت کے ساتھ اس کی مشابہت کو کیوں مخصوص کیا گیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک مسلمانوں کے ساتھ بادشاہتوں کا بھی وعدہ ہے مگر اس جگہ بادشاہت کا ذکر نہیں بلکہ صرف مذہبی نعمتوں کا ذکر ہے۔چنانچہ