خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 425

خلافة على منهاج النبوة ۴۲۵ جلد سوم وجہ یہ ہے کہ صلوۃ کا بہترین حصہ جمعہ ہے جس میں خطبہ پڑھا جاتا ہے اور قومی ضرورتوں کولوگوں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔اب اگر خلافت کا نظام نہ ہو تو قومی ضروریات کا پتہ کس طرح لگ سکتا ہے۔مثلاً پاکستان کی جماعتوں کو کیا علم ہوسکتا ہے کہ چین اور جاپان اور دیگر ممالک میں اشاعت اسلام کے سلسلہ میں کیا ہو رہا ہے اور اسلام ان سے کن قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔اگر ایک مرکز ہوگا اور ایک خلیفہ ہوگا جو تمام مسلمانوں کے نزدیک واجب الاطاعت ہوگا تو اسے تمام اکناف عالم سے رپورٹیں پہنچتی رہیں گی کہ یہاں یہ ہو رہا ہے اور وہاں وہ ہو رہا ہے اور اس طرح لوگوں کو بتایا جا سکے گا کہ آج فلاں قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اور آج فلاں قسم کی خدمات کے لئے آپ کو پیش کرنے کی حاجت ہے۔اسی لئے حنفیوں کا یہ فتویٰ ہے کہ جب تک مسلمانوں میں کوئی سلطان نہ ہو جمعہ پڑھنا جائز نہیں اور اس کی تہ میں یہی حکمت ہے جو میں نے بیان کی ہے۔اسی طرح عیدین کی نمازیں ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ امر ثابت ہے کہ آپ ہمیشہ قومی ضرورتوں کے مطابق خطبات پڑھا کرتے تھے۔مگر جب خلافت کا نظام نہ رہے تو انفرادی رنگ میں کسی کو قومی ضرورتوں کا کیا علم ہو سکتا ہے اور وہ ان کو کس طرح اپنے خطبات میں بیان کر سکتا ہے بلکہ بالکل ممکن ہے کہ حالات سے ناواقفیت کی وجہ سے وہ خود بھی دھوکا میں مبتلا ر ہے اور دوسروں کو بھی دھوکا میں مبتلا ر کھے۔میں نے ایک دفعہ کہیں پڑھا کہ آج سے ستر اسی سال پہلے ایک شخص بریکا نیر کے علاقہ کی طرف سیر کرنے کے لئے نکل گیا جمعہ کا دن تھا وہ ایک مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گیا تو اُس نے دیکھا کہ امام نے پہلے فارسی زبان میں مروجہ خطبات میں سے کوئی ایک خطبہ پڑھا اور پھر ان لوگوں سے جو مسجد میں موجود تھے کہا کہ آؤ اب ہاتھ اُٹھا کر دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ امیر المومنین جهانگیر بادشاہ کو سلامت رکھے۔اب اُس بے چارے کو اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ جہانگیر بادشاہ کو فوت ہوئے سینکڑوں سال گزر چکے ہیں اور اب جہانگیر نہیں بلکہ انگریز حکمران ہیں۔غرض جمعہ جو نماز کا بہترین حصہ ہے اسی صورت میں احسن طریق پر ادا ہوسکتا ہے جب مسلمانوں میں خلافت کا نظام موجود ہو۔چنانچہ دیکھ لو ہمارے اندر چونکہ ایک نظام