خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 417
خلافة على منهاج النبوة ۴۱۷ جلد سوم کو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ یہ منافق زور مار کر دیکھ لیں یہ ناکام رہیں گے اور ہم خلافت کو قائم کر کے چھوڑیں گے کیونکہ خلافت نبوت کا ایک جزو ہے اور الہی نور کے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔پھر فرماتا ہے لِكُلِّ امْرِى مِّنْهُمْ ما اكتسب من الاثم ان الزام لگانے والوں میں سے جیسی جیسی کسی نے کمائی ہے ویسا ہی عذاب اسے مل جائے گا۔چنانچہ جو لوگ الزام لگانے کی سازش میں شریک تھے انہیں اتنی اسی کوڑے لگائے گئے۔پھر فرمایا و الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَةُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيم نا مگر ان میں سے ایک شخص جو سب سے بڑا شرارتی ہے اور جو اس تمام فتنہ کا بانی ہے یعنی عبد اللہ بن ابی ابن سلول اسے نہ صرف ہم کوڑے لگوائیں گے بلکہ خود بھی عذاب دیں گے۔چنانچہ اس وعید کے مطابق اسے کوڑوں کی سزا بھی دی گئی۔" اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اسے عذاب مل گیا اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ہلاک ہو گیا اور حضرت ابو بکر آپ کے بعد خلیفہ ہو گئے۔اِس طرح یہ عذاب اسے اس رنگ میں بھی ملا کہ غزوہ بنو مصطلق میں ایک معمولی سی بات پر جب انصار اور مہاجرین کا آپس میں جھگڑا ہو گیا تو عبد اللہ بن ابی ابن سلول جو ہمیشہ ایسے موقعوں کی تاک میں رہتا تھا اُس نے انصار کو بھڑکاتے ہوئے کہا کہ اے انصار ! یہ تمہاری اپنی ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔تم نے مہاجرین کو پناہ دی اور اب وہ تمہارے سر چڑھ گئے ہیں تم مجھے مدینہ پہنچنے دو وہاں کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی وہ خود مدینہ کے سب سے زیادہ ذلیل آدمی یعنی ( نَعُوذُ بالله ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔عبد اللہ بن ابی ابن سلول کا بیٹا ایک نہایت ہی مخلص نو جوان تھا اس نے یہ الفاظ سنے تو وہ بے تاب ہو گیا اور بھاگتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہنے لگا يَارَسُولَ الله میرے باپ نے ایسی بات کہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان الفاظ کی سزا موت کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتی۔میں صرف اتنی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دیں تو یہ حکم کسی اور کو نہ دیں بلکہ خود مجھے دیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی اور شخص اسے قتل کر دے تو بعد میں کسی وقت اُسے دیکھ کر مجھے جوش آجائے اور میں اُس پر حملہ کر بیٹھوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہم اسے کوئی سزا نہیں دینا چاہتے۔ہم