خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 413

خلافة على منهاج النبوة ۴۱۳ جلد سوم کو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بدظن ہو کر اس عقیدت کو ترک کر دیں جو انہیں آپ سے تھی اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکڑ کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہو جائے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا۔حدیثوں میں صریح طور پر ذکر آتا ہے کہ صحابہؓ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکر کا ہی مقام ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ سے کہا۔اے عائشہ ! میں چاہتا تھا کہ ابو بکر کو اپنے بعد نا مزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ اللہ اور مومن اس کے سوا اور کسی پر راضی نہیں ہوں گے لے اس لئے میں کچھ نہیں کہتا۔غرض صحابہ یہ یقینی طور پر سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان میں اگر کسی کا درجہ ہے تو ابوبکر کا ہے اور وہی آپ کا خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔مکی زندگی تو ایسی تھی کہ اس میں حکومت اور اس کے نظام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد حکومت قائم ہوگئی اور طبعا منافقوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ آپ کے بعد کوئی خلیفہ ہو کر نظام اسلامی لمبا نہ ہو جائے اور ہم ہمیشہ کے لئے تباہ نہ ہو جائیں کیونکہ آپ کے مدینہ تشریف لانے کی وجہ سے ان کی کئی امیدیں باطل ہو گئی تھیں۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ مدینہ میں عربوں کے دو قبیلے اوس اور خزرج تھے اور یہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے اور قتل و خون ریزی کا بازار گرم رہتا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ اس لڑائی کے نتیجہ میں ہمارے قبائل کا رُعب مٹتا چلا جاتا ہے تو انہوں نے آپس میں صلح کی تجویز کی اور قرار دیا کہ ہم ایک دوسرے سے اتحاد کر لیں اور کسی ایک شخص کو اپنا با دشاہ بنالیں چنانچہ اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی اور فیصلہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے۔اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لئے تاج بننے کا حکم بھی دے دیا گیا۔اتنے میں مدینہ کے کچھ حاجی مکہ سے واپس آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ آخری زمانہ کا نبی مکہ میں ظاہر ہو گیا