خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 402
خلافة على منهاج النبوة ۴۰۲ جلد سوم انبیاءاور خلفاء کے دشمن ہمیشہ حریت کے نام پر ان کی مخالفت کرتے رہے ہیں سورة المؤمنون آیت ۲۶،۲۵ فَقَال المَلوُا الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ ما هذَا إِلَّا بَشَر مثْلُكُمْ يُرِيدُ أن يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ ، وَلَوْ شَاءَ اللهُ لا نَزِّلَ مَلَيْكَةً ہے ما سمعنا بهذا في أبَائِنَا الأَوَّلِينَ إنْ هُوَ الَّا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةً فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّى حِينِ انبیاء اور خلفاء کے دشمنوں کے اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔’انبیاء اور خلفاء کے دشمن ہمیشہ حریت کے نام پر ان کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ کیا اپنے جیسے انسان کو ہم اپنا حاکم تسلیم کر لیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ شخص ہم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے یعنی ایسا خلیفہ جو ساری جماعت کی راہنمائی کرے اور جس کا حکم سب مانیں انسانیت اور حریت کے خلاف ہے۔چنانچہ دیکھ لو جب اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کو آدم کی اطاعت اور اس کی کامل فرمانبرداری کا حکم دیا تو اُس وقت بھی حریت کے نام پر ابلیس آدم کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا آنا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍو خَلَقْتَهُ مِن طنین لے میں آدم کی اطاعت کس طرح کر سکتا ہوں؟ میں تو اس سے بہت بہتر اور افضل ہوں۔میرے اندر حریت اور آزادی کی آگ پائی جاتی ہے اور آدم غلامانہ ذہنیت کا مالک ہے۔وہ لوگ جو غلامی کو پسند کرتے ہیں اور اپنی حریت کی روح کو کچل دینا چاہتے ہیں وہ تو بے شک آدم کی اطاعت کر لیں مگر میں اس کی اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں۔یہی دعویٰ جو آجکل انارکسٹ کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم دوسروں کی غلامی برداشت نہیں کر سکتے ہم بغاوت کریں گے اور اپنی آزادی کی روح کو برقرار رکھیں گے۔