خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 382
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۲ جلد سوم آیت کے چند آیات بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وقفيْنَا عَلَى أَثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّورسة یعنی ہم نے مذکورہ بالا نبیوں کے بعد جو تورات کی تعلیم کو جاری کرنے کیلئے آئے تھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے تھے اور توریت کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والے تھے خود مسیح ناصری فرماتے ہیں :۔وو یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا ہوں میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہر گز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔‘‘A غرض یوشع سے لے کر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے معا بعد ان کے خلیفہ ہوئے حضرت مسیح ناصری تک کے سب انبیاء اور مجددین حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور ان کی شریعت کو جاری کرنے والے تھے۔اُمت محمدیہ میں ان تینوں قسم کی خلافتوں کا وعدہ بھی قرآن کریم سے ثابت ہے جن سے افسوس کہ بعض مسلمان غافل رہے اور ان سے صحیح فائدہ نہ اٹھا سکے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلحت ليَسْتَخْلِفَنَّهُمْ في الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهِيمُ وَلَيُمَكنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَنْ كَفَرَ بعد ذلك فارليكَ هُمُ الفسقُونَ ، یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے مومنوں اور مناسب حال عمل کرنے والوں سے وعدہ کرتا ہے کہ ضرور اُن کو بھی زمین میں اُسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا اور ضرور ان کے لئے ان کے اس دین کو جس کو اس نے ان کیلئے پسند کیا ہے مضبوطی سے قائم کرے گا اور ان کے خوف کے بعد امن کی حالت پیدا کر دے گا وہ میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے اور جولوگ اس کے بعد بھی کفر کریں گے وہ نا فرمان قرار دئیے جائیں گے۔