خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 381

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۱ جلد سوم رکھنے والا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے پہلے نبی کا خلیفہ ہوتا ہے لیکن عہدہ کے لحاظ سے وہ پہلے نبی کا مقرر کردہ نہیں ہوتا نہ اُس کی اُمت کا مقرر کردہ بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے مقرر کیا جاتا ہے اس قسم کے خلفاء بنی اسرائیل میں بہت سے گزرے ہیں بلکہ جس قدر انبیاء بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں آئے ہیں سب اسی قسم کے خلفاء تھے یعنی وہ نبی تو تھے مگر کسی جدید شریعت کے ساتھ نہ آئے تھے بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو ہی دنیا میں جاری کرنے کیلئے آئے تھے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرةً فِيْهَا هُدًى وَ نُورُ: يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ اسْلَمُوا اللَّذِينَ هَادُوا وَالرِّبانِيُّونَ وَالأحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا من كتب الله وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاء یعنی ہم نے تو رات اُتاری تھی جس میں ہدایت اور نور تھے۔تو رات کے ذریعہ سے بہت سے نبی جو ( موسی کے ) فرمانبردار تھے اور اسی طرح ربانی اور احبار بوجہ اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حفاظت کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا یہود کے درمیان فیصلے کرتے تھے اور یہ انبیاء اور ربانی اور احبار تورات پر بطور نگران مقرر تھے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کچھ انبیاء ایسے آئے تھے جن کا کام موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا قیام تھا اور وہ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔(۲) ان انبیاء کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی جن کو ربانی اور احبار کہنا چاہئے اس کام پر مقرر تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء اور مجددین کا ایک لمبا سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ا کے بعد ان کے خلفاء کے طور پر ظاہر ہوتا رہا جن کا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کام کی تکمیل تھا۔اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام تھے جن کو تدبر فی القرآن نہ کرنے کے سبب کئی مسلمان خصوصاً آخری زمانہ کے مسلمان با شریعت نبی سمجھ بیٹھے ہیں۔اسی طرح اس زمانہ کے مسیحی ان کی نسبت یہ خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ وہ ایک نیا قانون لے کر آئے تھے اور اسی وجہ سے وہ ان کی کتاب کو نیا عہد نامہ کہتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین کا قائم کرنے والا ایک خلیفہ قرار دیتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا