خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 380
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۰ جلد سوم مطابق دنیا پر ظاہر کرتے ہیں اور اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ظل بن کر ظاہر ہوتے ہیں۔انہی معنوں میں حضرت داؤد کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے۔(۲) دوسرے ہر قوم جو پہلی قوم کی تباہی پر اس کی جگہ لیتی ہے ان معنوں میں بھی خلیفہ کا لفظ قرآن کریم میں متعدد بار استعمال ہوا ہے مثلاً حضرت ہود کی زبان سے فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا وَاذْكُرُوا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاء مِنْ بَعْدِ قَوْمٍ نُوح " یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا۔یعنی قوم نوح کی تباہی کے بعد ان کی جگہ تم کو دنیا میں حکومت اور غلبہ حاصل ہو گیا۔اسی طرح حضرت صالح کی زبانی فرماتا ہے وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاء مِنْ بعد عاد" یاد کرو جب تم کو اللہ تعالیٰ نے عاد اولی کی تباہی کے بعد ان کا جانشین بنایا اور حکومت تمہارے ہاتھ میں آگئی۔(۳) نبی کے وہ جانشین بھی خلیفہ کہلاتے ہیں جو اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں یعنی اُس کی شریعت پر قوم کو چلانے والے ہوں اور ان میں اتحاد قائم رکھنے والے ہوں خواہ نبی ہوں یا غیر نبی۔جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام موعود راتوں کے لئے طور پر گئے تو اپنے بعد انتظام کی غرض سے انہوں نے حضرت ہارون سے کہا اخْلُفْنِي في تَوْمِي وَاصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ المُفسدين ۵ یعنی میرے بعد میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ان کی اصلاح کو مدنظر رکھنا اور مفسدلوگوں کی بات نہ ماننا۔حضرت ہارون خود نبی تھے اور اُس وقت سے پہلے نبی ہو چکے تھے پس یہ خلافت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں دی تھی وہ خلافت نبوت نہ ہو سکتی تھی اس کے معنی صرف یہ تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں ان کی قوم کا انتظام کریں اور قوم کو اتحاد پر قائم رکھیں اور فساد سے بچا ئیں۔جہاں تک اس خلافت کا تعلق ہے یہ خلافت نبوت نہ تھی بلکہ خلافت انتظامی تھی مگر جیسا کہ میں او پر لکھ چکا ہوں اس قسم کی شخصی خلافت علاوہ خلافت انتظامی کے خلافت نبوت بھی ہوتی ہے یعنی ایک سابق نبی کی اُمت کی درستی اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ ایک اور نبی کو مبعوث فرماتا ہے جو پہلے نبی کی شریعت کو ہی جاری کرتا ہے کوئی نئی شریعت جاری نہیں کرتا۔پس جہاں تک کہ شریعت کا تعلق ہوتا ہے وہ پہلے نبی کے کام کو قائم