خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 379
خلافة على منهاج النبوة ۳۷۹ جلد سوم خلیفہ کے معانی سوره بقرة آيت نمبر ٣١ وَاذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَيكَةِ إِنِّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً کی تفسیر میں لفظ خلیفہ کے بارے میں حضور نے فرمایا :۔ہیں :۔جیسا کہ پہلے حل لغات اور نوٹوں میں بتایا جا چکا ہے لفظ خلیفہ کے مندرجہ ذیل معانی (1) جو کسی پہلی قوم یا فرد کا قائم مقام ہو۔(۲) جو کسی بالا افسر کا اس کی زندگی ہی میں دوسرے مقام پر اس کے احکام کے نافذ کرنے کے لئے مقرر ہو۔(۳) جس کے بعد کوئی اس کا قائم مقام ہو خواہ (1) اس کے اختیارات یا کام کو چلانے والا (ب) خواہ اس کی نسل۔لیکن اس آیت میں جو لفظ خلیفہ کا آیا ہے اس کے معنوں کو قرآن کریم کے محاورہ کی روشنی میں دیکھنا چاہئے سو جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس میں یہ لفظ مندرجہ ذیل تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے (۱) نبی اور مامور کے معنوں میں جیسا کہ اس آیت میں استعمال ہوا ہے کیونکہ گو آدم اس معنی میں بھی خلیفہ تھا کہ ایک پہلی نسل کے تباہ ہونے پر اُس نے اور اُس کی نسل نے جگہ لی اور اس معنی میں بھی خلیفہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے ایک بڑی نسل چلائی لیکن وہ سب سے بڑی اہمیت جو اسے حاصل تھی وہ نبوت اور ماموریت ہی کی تھی جس کی طرف اس آیت میں سب سے پہلا اشارہ ہے۔نبی یا مامور اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہوتے ہیں یعنی صفات الہیہ کو اپنے زمانہ کی ضرورت کے