خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 373

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم کے احکام کو دنیا میں جاری کرنے والے تھے ان کا نام خلیفہ رکھا گیا۔میرے نز دیک بھی خلیفہ کا لفظ اسی لئے استعمال ہوا ہے کہ آدم خدا تعالیٰ کے احکام و منا ہی کو دنیا میں جاری کرنے والے تھے اور اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اب دنیا میں خدا تعالیٰ کا ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے۔یہ کہنا کہ آدم سے پہلے فرشتے دنیا پر رہتے تھے ایک بے ثبوت قول ہے اور یہ کہ جن پہلے رہتے تھے جو بشر کے سوا کوئی اور مخلوق تھی ویسا ہی بے ثبوت قول ہے اور اس کی وجہ سے آدم یا اس کی نسل کو خلیفہ کہنا بھی بے معنی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس کی مخلوق کب سے چلی آرہی ہے۔اگر خلیفہ کے لفظ سے بعد میں آنے والی کسی دوسری جنس کی مخلوق مراد لی جائے تو ہر مخلوق ہی خلیفہ کہلانی چاہئے کیونکہ وہ اپنے سے پہلے کسی اور مخلوق کی قائم مقام ہو گی کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفت خلق کی نسبت نہیں کہا جاسکتا کہ صرف چند ہزار سال یا چند لاکھ سال سے جاری ہوئی ہے اس سے پہلے کچھ نہ تھا۔میرے نزدیک یہ بھی درست نہیں کہ خلیفہ سے مراد اس جگہ آدم کی ذریت ہے کیونکہ قرآن کریم میں جہاں قوموں کی نسبت خلیفہ کا لفظ آیا ہے جمع کی شکل میں آیا ہے چنانچہ سورہ انعام میں ہے وَهُوَ الذي جَعَلَكُمْ خَليفَ الأرض اور سورہ فاطر میں ہے هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خُلَيْفَ فِي الْأَرْضِ اور سورہ یونس میں ہے ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَليفَ نا اور پھر سورہ یونس میں ہے و جَعَلَهُمْ خَليف " اسی طرح سورہ اعراف میں دو جگہ ہے واذكرُ وَ اذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاء " پھر سورہ نمل میں ہے وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الأرض 1 ان حوالوں سے ثابت ہے کہ قرآن کریم نے جب کسی قوم کے خلیفہ ہونے کا ذکر کیا ہے جمع کے لفظ سے کیا ہے اس لئے کہ قوم بہت سے افراد پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر فرد اپنی قسم کے فرد کا خلیفہ ہوتا ہے۔پس جب تک کوئی خاص غرض نہ ہو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے لئے مفر دلفظ کا استعمال ہو اس کے برخلاف قرآن کریم میں جہاں ایک شخص کے خلیفہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں لفظ خلیفہ مفرد استعمال کیا ہے مثلاً حضرت داؤد کی نسبت آتا ہے إنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ " پس ان حوالہ جات سے یہی استنباط ہوتا ہے کہ آیت زیر تفسیر میں بھی خلیفہ سے مراد