خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 374
خلافة على منهاج النبوة ۳۷۴ جلد سوم حضرت آدم ہیں نہ کہ بنی نوع انسان“۔( تفسیر کبیر جلد اصفحه ۴ ۲۷، ۲۷۵) اس تمہید کے بعد میں بتا تا ہوں کہ جو کچھ اس آیت میں بیان ہوا ہے یا تو وہ اوپر کی تمہید کے مطابق زبانِ حال کا ایک مکالمہ ہے لیکن اگر اسے زبان حال کا مکالمہ نہ کہا جائے اور میرا ذاتی رجحان اس طرف ہے کہ اس آیت میں جو کچھ ملائکہ کے متعلق کہا گیا ہے وہ بذریعہ الہام گزرا ہے صرف زبان حال کا محاورہ نہیں تو پھر جو کچھ خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا وہ بطور فیصلہ سنانے کے تھا مشورہ نہ تھا اور الفاظ قر آنیہ اس امر پر دلالت کر رہے ہیں۔آیت کا کوئی لفظ ایسا نہیں جس سے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کچھ پوچھا ہے بلکہ الفاظ بالوضاحت بتا رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے یہ کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں پھر نہ معلوم معترضین نے مشورہ کا مفہوم کہاں سے نکال لیا۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو سوال کرنے کی اجازت دی ہے کیونکہ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے فرشتوں کو اس امر کے بتانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ میں آدم کی تائید میں لگ جائیں اور جس کے سپر د کوئی کام کیا جاوے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اسے اچھی طرح سمجھ بھی لے۔پس انہوں نے سمجھنے کیلئے یہ سوال کیا ہے کہ الہی ! کیا آپ کوئی ایسی مخلوق پیدا کر نے والے ہیں جو فساد کرے گی اور خون بہائے گی ؟ اور یہ سوال ان کا خلیفہ کے لفظ سے استدلال کر کے ہے جس کے معنی جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ایسے وجود کے ہیں جو نظام قائم کرے اور نیکیوں کو انعام اور بدوں کو سزا دے اور ظاہر ہے کہ ہر سوال اعتراض کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ بعض سوال زیادتی علم کے لئے ہوتے ہیں۔ہر روز اس دنیا میں افسر ماتحتوں کو جب حکم دیتے ہیں تو وہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا یہ فعل اعتراض نہیں کہلا تا“۔البقره: ۳۱ ( تفسیر کبیر جلد نمبر اصفحه ۲۸۰) تفسیر ابن کثیر جلد اول صفحه ۲۱۶ مطبوعہ دارطيبه للنشر والتوزیع ۱۹۹۹ء سے تفسیر ابن کثیر جز اول صفحه ۱۱۲ مطبوعہ ریاض ۱۹۹۴ء تفسیر فتح البیان جلد اول صفحه ۱۲۵ مطبوعہ بیروت ۱۹۹۲ء