خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 372

خلافة على منهاج النبوة ۳۷۲ جلد سوم پہلے دنیا پر جن بستے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہموار زمین سے پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا اور آدم کو ان کی جگہ رکھا۔سے بعض کہتے ہیں کہ خلیفہ سے مراد ایسا وجود ہے جس کے نائب آئندہ پیدا ہوتے رہیں۔پس انّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً سے مراد آدم ان معنوں میں ہیں کہ ان کی نسل اِس دنیا پر پھیلنے والی تھی کے اس صورت میں خلیفہ بمعنی اسم مفعول ہوگا جیسے کہ ذَبِيحَة بمعنی مَذْبُوح آتا ہے۔اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد نسل انسانی ہے نہ آدم۔چنانچہ اس کی تائید میں بعض نے اس آیت کی یہ قراءت بھی نقل کی ہے کہ اِنّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً یعنی میں زمین میں ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہوں۔اور بعض نے اس خیال کی بنیاد قرآن کریم کی اس آیت پر رکھی ہے هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خُلَيْفٌ فِي الْأَرْضِ خدا ہی ہے جس نے تم کو دنیا میں ایک دوسرے کے بعد اس کی جگہ لینے والا بنایا ہے۔قتادہ نے بھی یہی مراد لی ہے کہ اس جگہ خلیفہ سے مراد نسل انسانی ہے۔وہ کہتے ہیں فَكَانَ فِي عِلْمِ اللهِ انَّه تَكُونُ فِي تِلْكَ الْخَلِيْفَةِ أَنْبِيَاءُ وَرُسُلٌ وَقَوْمٌ صَالِحُونَ وَسَاكِنُوا الْجَنَّةِ کے یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اس خلیفہ کے وجود میں نبی بھی ہوں گے اور رسول بھی اور صلحاء کی جماعت بھی اور جنت کے بسنے والے بھی۔اس فقرے سے ظاہر ہے کہ قتادہ کے نزدیک خلیفہ سے آدم کے وجود کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کی نسل کے کاملین کی طرف۔یہ قائلین اپنے دعوی کی تائید میں اس بات سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ فرشتوں نے جو یہ کہا کہ کیا تو اسے پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا ؟ بتا تا ہے کہ خلیفہ سے مراد آدم نہیں بلکہ بنی نوع انسان ہیں کیونکہ آدم نے نہ خون بہانا تھا اور نہ فساد کرنا تھا۔بعض نے کہا ہے کہ خلیفہ سے مراد آدم ہیں کیونکہ خلیفہ اسے کہتے ہیں کہ جو کسی کی نیابت میں احکام واوامر کو جاری کرے۔پس چونکہ آدم خدا تعالیٰ کے نبی ہونے والے تھے اور اس