خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 371
خلافة على منهاج النبوة ۳۷۱ جلد سوم تفسیر کبیر میں ” خلافت“ کے موضوع پر حضرت مصلح موعود کے ارشادات آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۳۱ دَراذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَيْكَةِ إِنِّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خليفة کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں:۔پیشتر اس کے کہ اس آیت کے مضمون پر کچھ لکھا جائے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق سابق مفسرین کے خیالات کا اظہار کر دیا جائے۔نیز اس بارہ میں جو کچھ سابق کتب میں بیان ہوا ہے اُس کا بھی ذکر کر دیا جائے۔مفسرین نے اس آیت کے متعلق اختلاف کیا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اِنِّي جَاعِلُ في الْأَرْضِ خَلِيفة سے مراد آدم ہے اور مراد یہ ہے کہ انسانوں سے پہلے اس دنیا پر ملائکہ رہتے تھے پس خدا تعالیٰ نے ان سے کہا کہ میں تم کو آسمان پر بلا لوں گا اور تمہاری جگہ ایک اور وجود پیدا کروں گا یعنی آدم کے ( ابن کثیر ) اس صورت میں خلیفہ بمعنی اسم فاعل لیا جائے گا۔ان معنوں کے قائلین میں سے بعض نے یہ توجیہہ کی ہے کہ آدم کو اس لئے خلیفہ نہیں کہا گیا کہ ان سے پہلے فرشتے بستے تھے اور انہوں نے ان کی جگہ لے لی بلکہ اس لئے کہ ان سے