خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 367

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم خدمت دین کے لئے آگے آنے کی تلقین ) خطبه جمعه فرموده ۹ / دسمبر ۱۹۵۵ء) حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب کی وفات کے موقع پر حضور نے خطبہ جمعہ میں نو جوانوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ وہ آگے آئیں اور ان کی جگہ لیں اور خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں آپ نے فرمایا :۔پس میں نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ وہ دین کی خدمت کے لئے آگے آئیں اور صرف آگے ہی نہ آئیں بلکہ اس ارادہ سے آگے آئیں کہ انہوں نے کام کرنا ہے۔گو حضرت خالد بن ولیڈ نوجوان آدمی تھے۔حضرت عمرؓ نے آپ کی جگہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو کمانڈر ان چیف مقرر کر دیا۔اُس وقت حضرت خالد بن ولیڈ کی پوزیشن ایسی تھی کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے خیال کیا کہ اس وقت ان سے کمانڈ لینا مناسب نہیں۔حضرت خالد بن ولید کو اپنی برطرفی کا کسی طرح علم ہو گیا۔وہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے پاس میری برطرفی کا حکم آیا ہے لیکن آپ نے ابھی تک اس حکم کو نافذ نہیں کیا۔حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے کہا خالد ! تم نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے اب بھی تم خدمت کرتے چلے جاؤ۔خالد نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن خلیفہ وقت کا حکم ماننا بھی ضروری ہے۔آپ مجھے بر طرف کر دیں اور کمانڈر انچیف کا عہدہ خود سنبھال لیں۔میرے سپرد آپ چپڑاسی کا کام بھی کر دیں گے تو میں اسے خوشی سے کروں گا لیکن خلیفہ وقت کا حکم بہر حال جاری ہونا چاہئے۔حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا کہ کمان تو مجھے لینی ہی پڑے گی کیونکہ خلیفہ وقت کی طرف سے یہ حکم آچکا ہے لیکن تم کام کرتے چلے جاؤ۔خالد نے کہا