خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 363

خلافة على منهاج النبوة ۳۶۳ جلد سوم خلیفہ مسیح کا مقام یکم فروری ۱۹۵۲ء کو خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جماعت کی تعداد بڑھنے اور حضرت مسیح موعود کی خدمات بغیر کسی اجر کے کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔حضور علیہ السلام کی تحریرات کا اس سے زیادہ مطلب کچھ نہ تھا کہ میں کسی بدلہ کی خواہش کے بغیر یہ کام کر رہا ہوں۔قرآن کریم میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے فرمایا میں تم سے اس کا کوئی اجر نہیں مانگتا۔اس کام کا بدلہ میں خدا تعالیٰ سے لوں گا جس نے یہ کام میرے ذمہ لگایا ہے۔کیا اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کر رہے تھے کہ مجھے کچھ دو ؟ یہ صاف بات ہے کہ لوگ انگریزوں کی خدمات بجالاتے تھے اور وہ انہیں انعامات بھی دیتے تھے لیکن ان خدمات اور انعامات کے مقابلہ میں کوئی شور نہیں پڑتا۔تمام مسلمان چپ ہیں۔لوگ ان انعام یافتوں کی دعوتیں کرتے ہیں اور اس اعزاز کی وجہ سے ان کا احترام بھی کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کے اس فعل کو نا پسند نہیں کرتے۔اگر مرزا صاحب پر مولوی لوگ اس لئے ناراض ہیں کہ آپ نے انگریزوں سے تعاون کیا ان کی مدد کی اور اس طرح ان کی طاقت کو بڑھایا تو سوال یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب کا انگریزوں سے یہ تعاون کسی غرض کے لئے تھا تو انگریزوں نے ان کی کیا مدد کی۔پنجاب موجود ہے اس میں دس پندرہ ہزار مربع زمین انگریز کی خدمات کے بدلہ میں لوگوں کو ملی ہے۔ان دس پندرہ ہزار مربعوں میں سے مرزا صاحب کو کتنے ملے ہیں؟ یا وہ کونسے خطابات ہیں جو انگریزی حکومت نے مرزا صاحب کو دیے۔مرزا صاحب تو فوت ہو گئے ہیں۔آپ کے زمانہ میں حکومت کی طرف سے کسی خطاب یا انعام کی آفر OFFER) نہیں آئی تھی۔لیکن میرے زمانہ میں حکومت نے یہ کہا