خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 355
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۵ جلد سوم " لکھا ہے یا تو رات میں یوں آتا ہے تو لوگوں پر اس کا کیا اثر ہوگا وہ یہی کہیں گے کہ ہم تو انجیل اور تورات کو مانتے ہی نہیں۔ہمارے سامنے ان باتوں کے بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے۔ہندوؤں میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو ہندو مذہب کے لٹریچر اور دیدوں کے حوالہ جات کو پیش کر کے بات کرے اور مسلمانوں میں وہی شخص مقبول ہو سکتا ہے جو قرآن کریم اور احادیث سے مسائل بیان کرے اور بدھوں میں وہی شخص مقبول ہوسکتا ہے جو بدھ مذہب کے لٹریچر سے اپنی باتیں نکال کر پیش کرے۔پس کمیونزم کے مقابلے کی صرف یہی صورت ہو سکتی ہے کہ عیسائی بھی ہندو بھی اور مسلمان بھی اور بدھ بھی اور زرتشتی بھی سب کے سب جمع ہو جائیں اور مل کر کمیونزم کا مقابلہ کریں۔اگر تمام مذاہب کے ماننے والے جمع ہو جائیں اور اپنے اپنے عقائد کے مطابق اپنے ہم خیال لوگوں کو مخاطب کریں تو یقیناً ہندو بھی سنے گا اور عیسائی بھی سنے گا اور مسلمان بھی سنے گا اور بدھ بھی سنے گا کیونکہ وہاں سیاست کا کوئی سوال نہیں ہوگا۔وہاں ہر شخص یہی کہے گا کہ ہمارا مذہب ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے اور کمیونزم اس کے خلاف ہے۔دوسری طرف اس کے نتیجہ میں کمیونزم کو بھی اپنے حملہ کا رخ بدلنا پڑے گا۔اب تو کمیونزم یہ کہتی ہے کہ ہم صرف سیاسی کے خلاف ہیں۔وہ ہے تو مذہب کے خلاف بھی مگر وہ اس کا ذکر نہیں کرتی۔سمجھتی ہے کہ جب حکومت ہمارے ہاتھ میں آجائے گی تو مذہب خود بخود مٹا ڈالیں گے۔فی الحال صرف حکومتوں کو توڑنا ہمارا کام ہے۔مثلاً وہ کہتے ہیں کہ سر دست ہم نے خدانخواستہ پاکستان کی حکومت کو توڑنا ہے ، ہم نے ہندوستان کی حکومت کو توڑنا ہے ، ہم نے افغانستان کی حکومت کو تو ڑنا ہے، ہم نے یورپین حکومتوں کو توڑنا ہے۔چین کی حکومت کو تو وہ تو ڑ ہی چکے ہیں جب تمام حکومتیں ٹوٹ گئیں تو مذہب کیلئے کوئی جگہ نہیں رہے گی کیونکہ جہاں ان کا غلبہ ہوا وہاں نہ کوئی مذہب کا نام لے سکے گا نہ اس پر عمل کر سکے گا اور نہ اس کی اشاعت کے لئے کوئی کوشش کر سکے گا۔یہ سکیم ہے جس کے ماتحت کمیونزم اپنے کام کو وسیع کرتا چلا جا رہا ہے مگر مذہبی لوگ خاموش بیٹھے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا اس سے کیا واسطہ کمیونسٹ تو صرف سیاست کے خلاف ہیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص دیکھے کہ ایک دشمن کسی بچے کو مار