خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 353
خلافة على منهاج النبوة ۳۵۳ جلد سوم سیٹرھیاں آجائیں جن سے گرنے کا خطرہ ہو وہاں مینوں کے ساتھ لوگوں نے رستے باندھے ہوئے ہوتے ہیں جن کے سہارے لوگ اوپر چڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح مرکز کمزوروں اور گرنے والوں کے لئے ایک سہارا ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہیں مرکز کے رسوں کو پکڑ کر مضبوطی حاصل کر لیتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے خلافت کو رحمت قرار دیا ہے اور مومنوں کے ساتھ اس نے خلافت کا وعدہ کیا ہے مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ انعام ہے اور انعام کے وعدے اور حکم میں فرق ہوتا ہے۔حکم بہر حال چلتا چلا جاتا ہے اور انعام صرف اس وقت تک رہتا ہے جب تک انسان اس کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔جب مستحق نہیں رہتا تو انعام اس سے واپس لے لیا جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چار خلافتیں ہوئیں مگر عیسائیوں کی خلافت آج تک قائم ہے۔اسلامی خلافت کا زمانہ صرف تیس سال تک رہا اور عیسائیوں کی خلافت پر انیس سو سال گزر چکے ہیں اور وہ ابھی تک قائم ہے۔بے شک جہاں تک روحانیت کا سوال ہے ان کی خلافت کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور انہوں نے آپ کو نہیں مانا تو وہ ایمان سے خارج ہو گئے اور کافروں میں شامل ہو گئے۔اسی طرح جہاں تک نیکی کا سوال ہے وہ بھی ان میں نہیں پائی جاتی اگر ان میں نیکی ہوتی تو لوٹ کھسوٹ اور کینہ اور کپٹ اور ناجائز تصرف اور دباؤ وغیرہ کی عادتیں ان میں کیوں پائی جاتیں۔لیکن جہاں تک عیسائیت کو قائم رکھنے کا سوال ہے یہ خلافت اس کو قائم رکھنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوئی ہے اور اسی وجہ سے آج بھی عیسائی کروڑوں کروڑ روپیہ عیسائیت کی اشاعت کے لئے خرچ کر رہے ہیں۔بظاہر ان کا مرکز اپنی طاقت کو کھو چکا ہے۔چنانچہ پہلے بادشاہت بھی پوپ کے ساتھ ہوا کرتی تھی مگر آہستہ آہستہ بادشاہتیں الگ ہو گئیں اور اب محض چند میل کا علاقہ ادب کے طور پر پوپ کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ اس علاقہ میں وہ اپنے آپ کو حاکم سمجھ لے۔پانچ دس میل لمبا اور پانچ سات میل چوڑا علاقہ غالباً ہے جس میں پوپ کی حکومت ہے بلکہ ا حکومت بھی نہیں کہنا چاہئے دفاتر کا نظام اس جگہ قائم ہوتا ہے اور جہاں سارے اپنے ہی