خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 347
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۷ جلد سوم خاطر قربانیاں کی ہیں۔ان سے پہلے سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی نے قربانی کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کے ماننے والوں میں سے کئی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں دین کے لئے عظیم الشان قربانیاں کیں۔بعد میں آنے والے جب بھی ان کے واقعات پڑھیں گے دیکھیں گے کہ انہوں نے دین کی خاطر بے مثال خدمتیں کی ہیں اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل ان پر نازل ہوا ہے تو ان میں بھی ان کی نقل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کا زمانہ آیا وہ زمانہ زیادہ تر ا رہاص یعنی خلافت کے قیام کا زمانہ تھا اس زمانہ میں کوئی ایسا ٹھوس کام جو جماعت کی تبلیغی ترقی کے ساتھ وابستہ ہوتا نہیں ہوا بلکہ سارا وقت اندرونی لڑائیوں اور آپس کے جھگڑوں میں ہی گزر گیا۔مگر بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس زمانہ میں بھی جماعت نے ترقی کی اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی اور خصوصاً ہائی سکول کی تعمیر ایک نمایاں کام تھا۔اُس زمانہ میں زیادہ تر اندرونی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مجھے ہی جنگ کرنی پڑی اور اس وجہ سے مخالفین اور فتنہ پرداز لوگوں کے ان حملوں کا جوحضرت خلیفہ امسیح الاوّل اور اُن کی تائید کرنے والے لوگوں پر کئے گئے زیادہ تر میں ہی ہدف رہتا تھا۔پھر میرا زمانہ آیا جس میں عام طور پر غیروں نے سمجھ لیا کہ اب یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا کیونکہ سب کام ایک بچے کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔سلسلہ کے سپر د فتح دنیا کا کام ہے اور کام ایک غیر تعلیم یافتہ اور نا تجربہ کار بچہ کے سپرد ہو گیا ہے۔جس نے بڑے بڑے کام نہیں کئے۔میں بتا چکا ہوں کہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کا زمانہ زیادہ تر خلافت کے قیام کا زمانہ تھا۔لیکن اب خلافت کے کام کا زمانہ شروع ہو رہا تھا۔اس زمانہ میں خلافت کی بنیا دوں پر عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور مختلف لوگوں کو مختلف رنگوں میں خدمت دین کا موقع ملا۔“ الفضل ۳۱ / جولائی ۱۹۴۹ء ) مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل ابى بكر صفحه ۱ ۱۰۵ حدیث نمبر ۶۱۸۱ مطبوعہ ریاض ۲۰۰۰ ء الطبعة الثانية تاريخ الخلفاء للسيوطي صفحه ۶۰ الناشر مکتبہ نزار مصطفى الباز ۲۰۰۴ء