خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 343

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۳ جلد سوم سوا کسی اور کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔آپ رقیق القلب انسان تھے اور اتنی نرم طبیعت کے تھے کہ ایک دفعہ آپ کو مارنے کے لئے بازار میں حضرت عمرؓ آگے بڑھے اور انہوں نے آپ کے کپڑے پھاڑ دیئے۔لیکن وہی ابو بکر جس کی نرمی کی یہ حالت تھی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت عمرؓ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ تمام عرب مخالف ہو گیا ہے صرف مدینہ، مکہ اور ایک اور چھوٹی سی بستی میں نماز باجماعت ہوتی ہے۔باقی لوگ نماز پڑھتے تو ہیں لیکن ان میں اتنا تفرقہ پیدا ہو چکا ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے تیار نہیں اور اختلاف اتنا چکا ہے کہ وہ کسی کی بات سنے کو تیار نہیں۔عرب کے جاہل لوگ جو پانچ پانچ چھ چھ ماہ بڑھ سے مسلمان ہوئے ہیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ زکوۃ معاف کر دی جائے۔یہ لوگ زکوۃ کے مسئلہ کو سمجھتے تو ہیں نہیں اگر ایک دو سال کے لئے انہیں زکوۃ معاف کر دی جائے تو کیا حرج ہے۔گویا وہ عمر جو ہر وقت تلوار ہاتھ میں لئے کھڑا رہتا تھا اور ذراسی بات بھی ہوتی تو کہتا يَا رَسُولَ الله ! حکم ہو تو اس کی گردن اُڑا دوں۔وہ ان لوگوں سے اتنا مرعوب ہو جاتا ہے اتنا ڈر جاتا ہے اتنا گھبرا جاتا ہے کہ ابو بکر کے پاس آ کر ان سے درخواست کرتا ہے کہ ان جاہل لوگوں کو کچھ عرصہ کے لئے زکوۃ معاف کر دی جائے ہم آہستہ آہستہ انہیں سمجھا لیں گے۔مگر وہ ابو بکر جو اتنا رقیق القلب تھا کہ حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں ایک دفعہ انہیں مارنے کے لئے تیار ہو گیا تھا اور بازار میں ان کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے اُس نے اُس وقت نہایت غصہ سے عمر کی طرف دیکھا اور کہا عمر ! تم اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو خدا اور اس کے رسول نے نہیں کی۔حضرت عمر نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن یہ لوگ حدیث العہد ہیں۔دشمن کا لشکر مدینہ کی دیواروں کے پاس پہنچ چکا ہے کیا یہ اچھا ہو گا کہ یہ لوگ بڑھتے چلے آئیں اور ملک میں پھر طوائف الملو کی کی حالت پیدا ہو جائے یا یہ مناسب ہوگا کہ انہیں ایک دوسال کے لئے زکوۃ معاف کر دی جائے۔حضرت ابوبکر نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر دشمن مدینہ کے اندر گھس آئے اور اس کی گلیوں میں مسلمانوں کو تہ تیغ کر دے اور عورتوں کی لاشوں کو کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں انہیں زکوۃ معاف نہیں کروں گا۔خدا کی قسم ! اگر