خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 339
خلافة على منهاج النبوة ۳۳۹ جلد سوم ایک پھل ہوں کروڑوں پھلوں میں سے ، ایک پھل درخت کا قائم مقام نہیں ہوسکتا نہ ایک دانہ کھیتی کا قائم مقام ہو سکتا ہے مگر جہالت اور نادانی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت جو ایک جاہل اور ان پڑھ صو بیدار جانتا ہے ہمارا مبلغ اس کو نہیں سمجھتا۔وہ اپنے مقام کو شناخت نہیں کرتا اور مرکز سے اپنے آپ کو مستغنی سمجھنے لگ جاتا ہے۔یہ ایک مرض ہے جو ہمارے نو جوانوں میں پیدا ہو رہا ہے اور جب انہیں کسی کام پر مقرر کیا جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کو بھی برباد کرتے ہیں اور سلسلہ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر اپنے حالات سے مرکز کو باخبر نہ رکھنے کی وجہ سے مرکز سے بالکل کٹ جاتے ہیں اور ایسے بھی ہو جاتے ہیں جیسے غیر احمدی کیونکہ وہ شاخ جس کا اپنے درخت سے تعلق ہے وہی سرسبز رہ سکتی ہے۔خواہ وہ کس قدر کمزور اور نا طاقت کیوں نہ ہولیکن ایک شاخ خواہ کس قدر سر سبز اور مضبوط ہو تم اسے درخت سے کاٹ کر پھینک دو وہ دو چار دن میں سوکھ کر کانٹا ہو جائے گی اور اس کی تمام سرسبزی اور تمام شادابی اور تمام لطافت جاتی رہے گی۔پس میں سمجھتا ہوں کام لینے والوں میں بھی ابھی یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ وہ بیداری سے کام لیویں اور پھر کام کرنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا پوری طرح احساس نہیں۔دونوں طرف غفلت طاری ہے اور اس غفلت کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکل سکتے۔اس موقع پر میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی تنظیم کریں اور تنظیم کے معنی یہ نہیں کہ وہ باقاعدہ اور بار بار مرکز میں اپنی رپورٹیں بھیجیں اور ہم سے اپنی مشکلات میں مشورہ حاصل کریں۔جب تک وہ بار بار مرکز کی طرف رجوع نہیں کریں گے اور جب تک بار بار ہم سے مشورہ نہیں لیں گے اس وقت تک ان کے کام میں کبھی برکت پیدا نہیں ہوسکتی۔آخر خدا نے ان کے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ نہیں دی میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ دی ہے۔انہیں خدا نے خلیفہ نہیں بنایا مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور جب خدا نے اپنی مرضی بتانی ہوتی ہے تو مجھے بتاتا ہے انہیں نہیں بتا تا۔پس تم مرکز سے الگ ہو کر کیا کر سکتے ہو۔جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے، جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے ، جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنا دیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کر کے تم