خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 338
خلافة على منهاج النبوة ۳۳۸ جلد سوم اپنے اندر ایمان اور جوش پیدا کرنے اور تبلیغ کرنے کا ذکر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنے اندر ایمان اور جوش پیدا کرنے اور دیوانہ وار تبلیغ کرنے کا ذکر اپنے خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۴۶ء میں اس طرح کیا اور فرمایا :۔”ہماری جماعت کے بعض افراد میں یہ نہایت خطر ناک نقص پیدا ہو چکا ہے کہ جب کوئی کام ان کے سپر د کیا جاتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہم کسی کے مشورہ کے محتاج نہیں ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔حالانکہ ان کی عقل ناقص ہوتی ہے ان کا تجربہ ناقص ہوتا ہے ان کا علم ناقص ہوتا ہے ان کا عمل ناقص ہوتا ہے اور وہ مرکز کے مشورے اور اس کی مدد کے بغیر ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے درخت سے کئی ہوئی شاخ مگر وہ اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے اور اپنے زعم میں یہ کہتے ہیں کہ ہم سے بڑھ کر اس کام کا کون اہل ہے اب ہمیں مرکز کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔یہ مرض اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ بعض مبلغ بھیجے جاتے ہیں تو وہ دو دو تین تین ماه بلکه سال سال بھر خاموش رہتے ہیں اور اپنے اپنے ناقص دماغ کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں حالانکہ اگر وہ سب کچھ کر سکتے تو خدا نے ان کو کیوں خلیفہ نہ بنایا۔پھر تو چاہئے تھا وہ خلیفہ بنتے میں خلیفہ نہ بنتا۔پس ان کا اپنے کام کی رپورٹ نہ بھجوانا اس بات کی علامت نہیں ہوتی کہ ان میں عقل ہے بلکہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کی عقل کا خانہ بالکل خالی ہے اور وہ اتنی معمولی سی بات کو بھی نہیں سمجھتے کہ خدا نے ہم کو ایک چھوٹی سی اینٹ بنایا ہے مکان نہیں بنایا۔مگر کیسے تعجب کی بات ہے ایک اینٹ تو سمجھتی ہے کہ وہ اینٹ ہے ایک پتہ تو سمجھتا ہے کہ وہ پتہ ہے۔ایک پھل تو سمجھتا ہے کہ وہ پھل ہے ایک بیج تو سمجھتا ہے کہ وہ بیج ہے مگر ہمارا مبلغ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ میں ایک بیج ہوں لاکھوں بیجوں میں سے ، میں ایک دانہ ہوں کروڑوں دانوں میں سے ، میں ایک پتہ ہوں کروڑوں پتوں میں سے، میں