خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 337

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۷ جلد سوم تقریر کی جس میں فرمایا اے لوگو ! تم میں سے جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا اسے معلوم ہونا چاہئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں لیکن وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا خدا زندہ ہے اور وہ کبھی مر نہیں سکتا۔اسی طرح میں کہتا ہوں جس نے خلیفہ وقت کی بیعت کی ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ وقت کی بیعت کے بعد اس پر یہ فرض عائد ہو چکا ہے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے اور اگر کسی نے صدر انجمن احمدیہ کی بیعت کی ہے تو اس سے خدا وہی معاملہ کرے گا جو صدرانجمن احمدیہ کی بیعت کے نتیجے میں ہوسکتا ہے۔خلیفہ وقت کی بیعت کرنے والوں میں وہ شامل نہیں ہو گا۔پس میں جماعت کو پھر متنبہ کرتا ہوں کہ اسے اپنے حالات کی اصلاح کرنی چاہئے۔ہمارے سپرد ایک بہت بڑا کام ہے اور وہ کام کبھی سرانجام نہیں دیا جاسکتا جب تک ہر شخص اپنی جان اس راہ میں لڑا نہ دے۔پس تم میں سے ہر شخص خواہ دنیا کا کوئی کام کر رہا ہوا گر وہ اپنا سارا زور اس غرض کیلئے صرف نہیں کر دیتا، اگر خلیفہ وقت کے حکم ہوا پر ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کیلئے تیار نہیں رہتا ، اگر اطاعت اور فرمانبرداری اور قربانی اور ایثار ہر وقت اس کے سامنے نہیں رہتا تو اس وقت تک نہ ہماری جماعت ترقی کر سکتی ہے اور نہ وہ اشخاص مومنوں میں لکھے جاسکتے ہیں۔یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔اگر اسلام اور ایمان اس چیز کا نام نہ ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے کسی مسیح کی ضرورت نہیں تھی لیکن اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے مسیح موعود کی ضرورت تھی تو مسیح موعود کے ہوتے ہوئے ہماری بھی ضرورت ہے۔ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمد بیت پر ایمان رکھتا ہوں خدا کے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہوگی۔جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہرلمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہوسکتا۔(الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۴۶ء) "