خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 333

خلافة على منهاج النبوة ۳۳۳ جلد سوم تحریک جدید کے تقاضے اور اہمیت رت خلیفہ المسیح الثانی نے ۸ دسمبر ۱۹۴۴ء کے خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کے تقاضے حضرت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : - ہمارا نظام بھی محبت اور پیار کا ہے کوئی قانون ہمارے ہاتھ میں نہیں کہ جس کے ذریعہ ہم اپنے احکام منوا سکیں بلکہ میری ذاتی رائے تو یہی ہے کہ احمد بیت میں خلافت ہمیشہ بغیر د نیوی حکومت کے رہنی چاہئے۔دنیوی نظام حکومت الگ ہونا چاہئے اور خلافت الگ تا وہ شریعت کے احکام کی تعمیل کی نگرانی کر سکے ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں لیکن اگر آئے تو میری رائے یہی ہے کہ خلفاء کو ہمیشہ عملی سیاسیات سے الگ رہنا چاہئے اور کبھی بادشاہت کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کرنی چاہئے۔ورنہ سیاسی پارٹیوں سے براہ راست خلافت کا مقابلہ شروع ہو جائے گا اور خلافت ایک سیاسی پارٹی بن کر رہ جائے گی اور خلفاء کی حیثیت باپ والی نہ رہے گی۔اس میں شک نہیں کہ اسلام کے ابتداء میں خلافت اور حکومت جمع ہوئی ہیں مگر وہ مجبوری تھی کیونکہ شریعت کا ابھی نفاذ نہ ہوا تھا اور چونکہ شریعت کا نفاذ ضروری تھا اس لئے خلافت اور حکومت کو اکٹھا کر دیا گیا اور ہمارے عقیدہ کی رو سے یہ جائز ہے کہ دونوں اکٹھی ہوں اور یہ بھی جائز ہے کہ الگ الگ ہوں۔ابھی تو ہمارے ہاتھ میں حکومت ہے ہی نہیں مگر میری رائے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ ہمیں حکومت دے اُس وقت بھی خلفاء کو اسے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے بلکہ الگ رہ کر حکومتوں کی نگرانی کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ اسلامی احکام کی پیروی کریں اور ان سے مشورہ لے کر چلیں اور حکومت کا کام سیاسی لوگوں کے سپر د ہی رہنے دیں۔پس اگر حکم کا سوال ہو تو میرا نقطہ نگاہ تو یہ ہے کہ اگر میری چلے تو میں کہوں گا کہ حکومت ہاتھ میں آنے پر بھی خلفاء اسے