خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 331
خلافة على منهاج النبوة ٣٣١ جلد سوم کے سونے کے کنگن دیکھے۔۔جب حضرت عمر کا زمانہ آیا اور اسلامی فوجوں کے مقابلہ میں کسری کو شکست ہوئی تو غنیمت کے اموال میں کسری کے سونے کے کنگن بھی آئے۔حضرت عمر نے اُس شخص کو بلایا اور فرمایا تمہیں یاد ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ تمہیں کہا تھا کہ میں تمہارے ہاتھ میں کسری کے سونے کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔اس نے عرض کیا ہاں یاد ہے۔آپ نے فرمایا لو یہ کسری کے سونے کے کنگن اور انہیں اپنے ہاتھوں میں پہنو۔اُس نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لئے اور کہا عمر! آپ مجھے اس بات کا حکم دیتے ہیں جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔شریعت کہتی ہے کہ مردوں کے لئے سونا پہنا جائز نہیں اور آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں کسری کے سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنوں۔حضرت عمر جس طبیعت کے تھے وہ سب کو معلوم ہے۔آپ اُسی وقت کھڑے ہو گئے۔کوڑا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا خدا کی قسم ! اگر تم یہ سونے کے کنگن نہیں پہنو گے تو میں کوڑے مار مار کر تمہاری کمر اُدھیڑ دوں گا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھا وہی میں پورا کروں گا اور تمہارے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنا کر رہوں گاتے۔تو درحقیقت یہی نیکی اور یہی حقیقی ایمان ہے کہ انسان وہی طریق اختیار کرے جس طریق کے اختیار کرنے کا امام اُسے حکم دے۔وہ اگر اسے کھڑا ہونے کے لئے کہے تو کھڑا ہو جائے اور اگر ساری رات بیٹھنے کے لئے کہے وہ بیٹھ جائے اور یہی سمجھے کہ میری ساری نیکی یہی ہے کہ میں امام کے حکم کے ماتحت بیٹھا رہوں۔پس جماعت میں یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ نیکی کا معیار یہی ہے کہ امام کی کامل اطاعت کی جائے۔امام اگر کسی کو مدرس مقرر کرتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لڑکوں کو عمدگی سے تعلیم دے امام اگر کسی کو ڈاکٹر مقرر کر کے بھیجتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لوگوں کا عمدگی سے علاج کرے امام اگر کسی کو زراعت کے لئے بھیج دیتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ زمین کی عمدگی سے نگرانی کرے اور امام اگر کسی کو صفائی کے کام پر مقرر کر دیتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ عمدگی سے صفائی کرے۔وہ بظا ہر جھاڑو دیتا نظر آئے گا ، وہ بظا ہر صفائی کرتا دکھائی دے گا مگر چونکہ اُس نے امام کے حکم کی تعمیل میں ایسا کیا ہوگا اس لئے اس کا