خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 324
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۴ جلد سوم لحاظ سے کہ اس کا خاوند قوم کا ایک خادم ہے اس کی عزت کریں تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن محض اس وجہ سے کہ وہ ناظر امور عامہ کی بیوی ہے یا ناظر امور خارجہ کی بیوی ہے یا ناظر ضیافت کی بیوی ہے یا ناظر بیت المال کی بیوی ہے یا ناظر تعلیم و تربیت کی بیوی ہے یا ناظر اعلی کی بیوی ہے اس کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ دوسروں پر رعب جتائے۔وہ جماعت کا ایک ویسا ہی فرد ہے جیسے کوئی معمولی سے معمولی شخص کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بعض لوگوں کو رتبہ دیا ہے وہ کام کے لحاظ سے دیا ہے اور ان سے تعلق رکھنے والوں کو یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ ان کے رتبہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں پر رُعب جتانا شروع کر دیں۔میری جب وصیت شائع ہوئی تو بعض انگریزی اخبارات کے نمائندے مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔اُن کے آنے کی بڑی غرض یہ تھی کہ وہ مجھ سے یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ میرے بعد یا تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب خلیفہ ہونگے یا میرا بیٹا ناصر احمد ؟ وہ بار بار ادھر ادھر کی باتیں کر کے پھر یہی سوال میرے سامنے پیش کر دیتے اور کہتے کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہوگا۔کیا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہونگے یا ناصر احمد۔میں نے اُنہیں کہا کہ خلافت تو خدا تعالیٰ کی ایک دین ہے اس میں چوہدری ظفر اللہ خان اور ناصر احمد کا ویسا ہی حق ہے جیسے ایک نومسلم چوہڑے کا۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ رتبہ کس کو دیگا۔کسی بڑے آدمی کو یا ایک معمولی اور حقیر نظر آنے والے انسان کو۔مگر وہ دنیا داری کے لحاظ سے سمجھتے تھے کہ میرے بعد خلافت کے اہل یا تو چوہدری ظفر اللہ خان ہیں یا نا صراحمد۔چنانچہ چکر کھا کر وہ پھر یہی سوال کر دیتے کہ اچھا تو پھر آپ کے بعد کیا صورت ہو گی ؟ مگر میں انہیں یہی کہتا رہا کہ مجھے کچھ علم نہیں اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ نعمت کس کو عطا کرے گا۔آخر انہیں میرے جوابوں سے اتنی مایوسی ہوئی کہ انہوں نے ملاقات کا ذکر شائع کرتے وقت اس سوال کو ہی اُڑا دیا۔ایک اخبار والے نے تو میرے ساتھ اس سوال پر بڑی بحث کی اور کہا کہ آخر کچھ تو کہیں میں نے کہا میں اس بارہ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ حضرت خلیفہ اول جب فوت ہوئے اور جماعت میں خلافت کے متعلق جھگڑا شروع ہوا تو بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پید ہوا کہ شاید میں نے اپنی خلافت کے لئے یہ جھگڑا کھڑا کر رکھا