خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 307

خلافة على منهاج النبوة ۳۰۷ جلد سوم نہیں پڑھا گیا۔اسی طرح ایک اور بحث بھی ہے مگر میں اُس کا نام نہیں لینا چاہتا تا کہ مخالف ہوشیار نہ ہو جائے۔مگر اس کے متعلق بھی ایسے رنگ میں بحث کی جاسکتی تھی کہ مخالف اپنے منہ سے آپ ہی مجرم بن جا تا۔پھر یہ بات بھی یا درکھو کہ گناہ دوستم کے ہوتے ہیں ایک ظاہر گناہ ہوتے ہیں اور ایک مخفی گناہ۔جو گناہ کسی کے باطن سے تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق شریعت نے ہمیں یہ ہدایت دے دی ہے کہ ہم ان کے بارہ میں جستجو نہ کیا کریں لیکن جو ظا ہر گناہ ہوتے ہیں وہ چونکہ ہر ایک کو دکھائی دیتے ہیں اس لئے ان کے بارہ میں تجسس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اب دیکھو کیا یہ عجیب نہیں کہ یہ نئی پارٹی جو ہمارے خلاف نکلی ہے اسی طرح جو پیغامی ہمارے خلاف مضامین لکھتے رہتے ہیں ان میں سے اکثر ڈاڑھی منڈے ہوتے ہیں۔اب بتاؤ کیا اللہ اور اس کے رسول کی حمایت کا جوش انہی لوگوں میں زیادہ ہوا کرتا ہے جو شریعت کی اس طرح کھلے طور پر ہتک کرنے والے ہوں۔وہ اصلاح کا دعویٰ کرتے ہوئے اُٹھے ہیں مگر ان کے اپنے بیٹے اور رشتہ دار اور دوسرے قریبی سب ڈاڑھیاں مُنڈ واتے ہیں۔وہ ہمارے خلاف جب لکھنے پر اترتے ہیں تو وہ ہمارے ان گناہوں کے متعلق بھی لکھ جاتے ہیں جو مخفی ہوتے ہیں اور جن کے متعلق شریعت انہیں یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ ان کا ذکر کریں مگر کیا انہوں نے اپنا منہ کبھی شیشہ میں نہیں دیکھا اور کیا مصلح ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ممکن ہے وہ کہہ دیں کہ ہم نے کبھی شیشہ استعمال نہیں کیا مگر خدا نے ان کو آنکھیں تو دی ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں اور دوسرے رشتہ داروں کی کیا صورت ہے اور کیا ایسی صورتیں ہی لوگوں کی اصلاح کیا کرتی ہیں۔پھر ان لوگوں کے اخلاق کی حالت یہ ہے کہ میں ابھی سندھ میں ہی تھا کہ وہاں مجھے ایک رسالہ ملا جس میں لکھنے والے نے یہ ذکر کیا تھا کہ میں نے ایک رجسٹر ڈ خط آپ کو بھجوایا تھا جس میں فلاں بات میں نے بیان کی تھی مگر اس کا مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔حقیقت یہ ہے کہ وہ خط دفتر نے میرے سامنے پیش ہی نہیں کیا تھا۔کیونکہ جیسا کہ انہوں نے مجھے بتایا انہوں نے اس کے پیش کرنے کی ضرورت نہ سمجھی اور دفتر متعلقہ میں بھجوا دیا۔بہر حال وہ