خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 308
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۸ جلد سوم رساله شیخ غلام محمد صاحب کا تھا جو انہی پیغامیوں میں سے الگ ہو کر آجکل مصلح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔میں اُن دنوں چونکہ قدرے فارغ تھا اس لئے میں نے اس رسالہ کو کھولا اور اسے پڑھنا شروع کر دیا۔اس رسالہ میں لکھا ہوا تھا کہ ایک پیغامی ڈاکٹر یہ بیان کرتا ہے کہ میں مرزا محمود احمد صاحب سے قادیان ملنے کیلئے گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی ہے اور جب انہیں پتہ لگا کہ میں ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں تو وہ ڈر سے کہ نشہ چڑھا ہوا ہے ایسا نہ ہو کہ اسے پتہ لگ جائے چنانچہ انہوں نے ملاقات میں دو تین گھنٹے دیر لگا دی اور کہہ دیا کہ میں ابھی نہیں مل سکتا۔دو تین گھنٹے انتظار کے بعد انہوں نے مجھے بلوایا اور میں نے جاتے ہی فوراً پہچان لیا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی کیونکہ ان کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی۔مگر انہوں نے اس بات کو چھپانے کے لئے عطر مل رکھا تھا۔شیخ غلام محمد صاحب نے اس رسالہ میں یہ بھی لکھا تھا کہ میں نے اس مضمون کا رجسٹری خط امام جماعت احمدیہ کو بھجوایا تھا مگر مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔اب میں انہیں اس رسالہ کے ذریعہ توجہ دلا تا ہوں اور بتا تا ہوں کہ پیغامیوں کے حلقہ میں آپ کے متعلق یہ بات زور سے پھیلی ہوئی ہے۔میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو ہدایت دی کہ آپ اس پیغامی ڈاکٹر کو ایک رجسٹر ڈ خط لکھیں جس میں اُن سے دریافت کریں کہ یہ بات جو شائع ہوئی ہے کہاں تک درست ہے۔ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم خود بخود یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ نے واقعہ میں یہ کہا ہوگا۔چونکہ یہ بات شائع ہو چکی ہے اس لئے آپ ہمیں بتائیں کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط میری غرض یہ تھی کہ اگر اُنہوں نے جواب دیا تو اصل بات خود ان کی زبان سے معلوم ہو جائے گی اور اگر جواب دیا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ انہوں نے واقعہ میں یہ بات کہی ہے۔ایک مہینہ گزرنے کے بعد میں نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے دریافت کیا کہ کیا ان کا کوئی جواب آیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ کوئی جواب نہیں آیا۔اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کی اخلاقی حالت کس قدر گری ہوئی ہے۔حالانکہ واقعہ صرف یہ تھا کہ شیخ محمد نصیب صاحب کو اپنے ہمراہ لے کر وہ میری ملاقات کے لئے آئے۔پرائیویٹ سیکرٹری نے کہا کہ آجکل ملاقاتیں تو بند ہیں مگر چونکہ آپ خاص