خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 306
خلافة على منهاج النبوة ۳۰۶ جلد سوم غیر مبائعین بھی گمراہ ہیں اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحیح تعلیم پر صرف مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہی قائم ہیں تو کیا ان کا فرض نہیں تھا کہ وہ اس تین سالہ عرصہ میں عیسائیوں کے خلاف لکھتے ، آریوں کے خلاف لکھتے ، مذاہب باطلہ کا رڈ کرتے اور اسلام کی شوکت اور عظمت ان پر ظاہر کرتے۔مگر کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ اس تین سال کے عرصہ میں انہوں نے کیا اصلاح کی اور کتنے آریوں اور عیسائیوں پر اتمام حجت کی ؟ یا کیا وہ اب اس بات کے لئے تیار ہیں کہ آریوں اور احرار وغیرہ کے خلاف لکھیں گے؟ تو یقیناً وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کے اس فتنہ کی بنیاد ہی آریوں اور احرار کی مدد پر ہے اور وہ جانتے ہیں کہ وہ انہی کی مدد پر جی رہے ہیں۔اگر وہ ان کے خلاف لکھیں تو ان کا خدا ہی مرجائے۔پس ان کے خلاف لکھنے کی وہ کبھی جرات نہیں کر سکتے۔نتیجہ یہ نکلا کہ آج دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم کے ماتحت کوئی جماعت بھی کام نہیں کر رہی۔ہم نہیں کر رہے کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک ہم گمراہ ہیں۔غیر مبائعین نہیں کر رہے کیونکہ مصری صاحب کے نزدیک وہ بھی گمراہ ہیں اور میں بتا چکا ہوں خود مصری صاحب بھی یہ کام نہیں کر رہے پس وہ بھی گمراہ ہوئے اور جب تمام کے تمام گمراہی پر قائم ہیں تو سوال یہ ہے کہ و کون سی جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم کی تھی اور جسے آپ کی بتائی ہوئی تعلیم کے ماتحت دنیا میں کام کرنا چاہئے تھا۔غرض یہ وہ باتیں ہیں جو جماعت کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہئیں اور وقتاً فوقتاً ان لوگوں کے سامنے انہیں پیش کرتے رہنا چاہئے۔پھر اس امر کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ مخالف کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے دلائل پر پوری طرح غور کر لیا جائے اور سوچ سمجھ کر اور فکر سے کام لے کر سوالات کا جواب دیا جائے۔بعض دفعہ غور سے کام نہیں لیا جا تا اور یونہی جواب دے دیا جاتا ہے۔یہ درست طریق نہیں۔مثلاً آجکل ذریت مبشرہ کے متعلق بحث ہو رہی ہے۔میرے نزدیک سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ لغت کے لحاظ سے اس پر بحث کی جاتی۔اگر ہماری جماعت کے دوست لغت کے لحاظ سے اس پر بحث کرتے تو اس بحث کا خاتمہ ہی ہو جاتا۔اسی طرح بعض اور سوالات کا جواب دیتے وقت بھی میرے نزدیک پرانے لٹریچر کو