خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 303
خلافة على منهاج النبوة ٣٠٣ جلد سوم کوئی جاپان میں تبلیغ کر رہا ہے، کوئی یورپ میں تبلیغ کر رہا ہے ، کوئی امریکہ میں تبلیغ کر رہا ہے۔اسی طرح ہم اپنا لٹریچر اور کتابیں شائع کرتے رہتے ہیں۔یہ کام اچھا ہے یا بُرا اس سے قطع نظر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس وقت دو جماعتیں ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ کام کر رہی ہیں مگر یہ دونوں مصری صاحب کے نزدیک غلط راہ پر ہیں۔چنانچہ غیر مبائعین کے متعلق وہ آج سے اٹھارہ سال قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ خوارج کے گروہ کی طرح ہیں۔اور ہمارے متعلق انہوں نے اب کہا ہے کہ یہ بھی خوارج کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔پس جب دونوں جماعتیں ہی صحیح راستہ سے منحرف ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ پھر دنیا میں صرف ایک ہی جماعت رہ گئی جو صداقت پر قائم ہے اور وہ مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہیں۔پس ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے اسلام کی اشاعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کو پھیلانے کے لئے کیا کیا۔مصری صاحب جب سے علیحدہ ہوئے ہیں ان کا سارا زور ہمارے خلاف صرف ہو رہا ہے۔نہ وہ آریوں کے خلاف لکھتے ہیں، نہ وہ عیسائیوں کے خلاف لکھتے ہیں ، نہ وہ ہندوؤں کے خلاف لکھتے ہیں ، نہ وہ پیغا میوں کے خلاف لکھتے ہیں۔گویا آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نَعُوذُ بِاللہ) کوئی نام لیوا دنیا میں باقی نہیں اور جو مصریوں کی شکل میں باقی ہیں وہ بھی اسلام کی خدمت کا کوئی کام سرانجام نہیں دے رہے۔مصری صاحب کہہ سکتے ہیں کہ میرا یہ بھی کام ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مومن کو اپنی نگاہ ہر طرف رکھنی چاہئے۔پس اگر انہیں ہم میں نقائص دکھائی دیتے ہیں تو وہ بے شک ہم پر اعتراض کریں کیونکہ میرے نزدیک اگر ہم انہیں یہ کہیں کہ ہم پر اعتراض نہ کرو احرار پر کرو، یا ہم پر اعتراض نہ کرو عیسائیوں پر کرو، یا ہم پر اعتراض نہ کرو آریوں پر کرو تو یہ کسی صورت میں درست نہیں ہوگا۔مومن کا کام ہے کہ وہ ہر طرف توجہ رکھے۔پس ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہم پر اعتراض نہ کریں بلکہ اگر وہ ہمیں غلطی پر سمجھتے ہیں تو یقیناً ان کا حق ہے کہ وہ ہمارے خلاف جد و جہد کریں۔لیکن ایک سوال ہے جس کو وہ کبھی حل نہیں کر سکتے کہ کیا یہ فتنہ جو مصری صاحب کے نزدیک بڑا فتنہ ہے یہ تو اس بات کا حق رکھتا ہے کہ مصری صاحب اپنی تمام کوششیں اس کو