خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 301

خلافة على منهاج النبوة ٣٠١ جلد سوم بطریق تنزل انجمن اشاعت اسلام لاہور کو۔اس کے حقوق مولوی محمد علی صاحب کو کیونکر مل گئے اور ان کے لئے یہ کیونکر جائز ہو گیا کہ وہ اس کی آمد کو اپنے آپ پر اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کریں۔یہ سوال ہے جو غیر مبائعین کے سامنے پیش کرنا چاہیے کہ دوسروں پر اعتراض کرنے سے پہلے تم اپنے گھر کا تو جائزہ لو اور بتاؤ کہ مولوی محمد علی صاحب کو کس طرح یہ حق حاصل تھا کہ وہ ترجمہ قرآن اُٹھا کر اپنے گھر لے جاتے۔اور پھر ساتھ ہی ان سے یہ بھی پوچھ لو کہ آیا ہمیں بھی اس بات کی اجازت حاصل ہے کہ جو لوگ ہماری جماعت میں تم میں سے نکل کر شامل ہوئے ہیں اور تمہیں سینکڑوں روپے بطور چندہ دیتے رہے ہیں وہ تمہارا مال اُٹھا لیں اور کیا تم اس پر برا تو نہیں مناؤ گے اور کیا اسی قانون کے مطابق انہیں غیر مبائعین کی چیز میں ہتھیا لینے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ اسی طرح ان کے جو نئے دوست مصری صاحب پیدا ہوئے ہیں ان کے متعلق بھی جماعت کو بعض ضروری باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔مصری صاحب اب دراصل انہی کی پارٹی میں ہیں۔گو ظا ہر وہ یہ کرتے ہیں کہ ان کا غیر مبائعین کے عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔پیغامی لوگ بھی انکی باتیں اپنے اخبارات کے ذریعہ خوب پھیلاتے رہتے ہیں۔ان کے متعلق ” فاروق میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جو بہت ہی لطیف ہے۔سید احمد علی صاحب مولوی فاضل اس مضمون کے لکھنے والے ہیں۔اس میں انہوں نے دو حوالے ایسے جمع کر دیئے ہیں جو بہت ہی کارآمد ہیں اور جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان حوالوں کو یاد رکھیں۔ان میں سے ایک حوالہ میں انہوں نے غیر مبائعین کو غلطی پر قرار دیا ہے اور دوسرے حوالہ میں انہوں نے ہمیں غلطی پر قرار دیا ہے۔اب جب کہ مصری صاحب کے نزدیک ہم بھی غلطی پر ہوئے اور غیر مبائعین بھی غلطی پر ہوئے تو سوال یہ ہے کہ پھر سچائی پر کون قائم ہے اور وہ کونسی جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کی صحیح تعلیم کی حامل ہے؟ اس صورت میں تو گویا نہ ہماری جماعت اُس تعلیم پر قائم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی اور نہ غیر مبائعین اُس تعلیم پر قائم ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی۔صرف مصری صاحب اور ان کے بیٹے ہی باقی رہ جاتے ہیں اور