خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 296

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۶ جلد سوم صاحب کی ذاتی ملکیت بن چکا ہے اور اس کی آمد میں سے نہ صرف ان کو حصہ ملتا ہے بلکہ شاید انہوں نے اپنے بیوی بچوں کے حق میں بھی اس کی وصیت کر دی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ سلسلہ کے ایک مال پر تصرف کرنے کا مولوی محمد علی صاحب کو کہاں سے حق حاصل ہو گیا اور یہ کہاں کا تقویٰ ہے کہ ایک ترجمہ وہ صدر انجمن احمد یہ سے سالہا سال تک تنخواہ وصول کر کے کریں اور پھر وہ ان کی ذاتی ملکیت بن جائے۔وہ ہم پر ہزاروں قسم کے اعتراضات کرتے ہیں ، وہ ہماری مخفی زندگی کے عیوب بھی تلاش کر کر کے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں جو بات ہم پیش کر رہے ہیں وہ تو بالکل کھلی اور واضح ہے۔وہ کسی کی مخفی زندگی کے متعلق ہے۔نہیں بلکہ ایک ایسی بات ہے جو رجسٹروں میں آچکی ہے جو پبلک کے سامنے پیش ہو چکی۔پس وہ بتائیں کہ سلسلہ احمدیہ نے ترجمہ قرآن پر اپنا جو روپیہ خرچ کیا تھا اس کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کو یہ کہاں سے حق حاصل تھا کہ وہ اس کو اپنی ذاتی جائیدا د تصور کر لیتے۔بعض پیغامی اس کا یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ اس روپیہ میں جو مولوی محمد علی صاحب کو بطور تنخواہ ملا کرتا تھا ہما را چندہ بھی شامل تھا اور اس وجہ سے ہم نے علیحدگی پر ضروری سمجھا کہ اپنے چندہ کے معاوضہ کے طور پر ترجمہ قرآن کو بھی ساتھ لیتے آئیں کیونکہ جو روپیہ اس پر خرچ ہوا اس میں ہمارا بھی حصہ تھا۔حالانکہ اول تو اصولاً یہ بات ہی غلط ہے کہ جس کے ہاتھ کوئی چیز لگے وہ اس بہانہ کی آڑ لے کر اسے ہتھیا لے کہ چونکہ میں بھی چندہ دیا کرتا تھا اس لئے میرے لئے جائز ہے کہ میں یہ چیز اپنے گھر لے جاؤں۔لیکن اگر یہ اصول درست ہے تو کیا وہ پسند کریں گے کہ جو لوگ ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور جو اُس زمانہ میں جب کہ وہ ان کے ساتھ شامل تھے انہیں سینکڑوں روپے بطور چندہ دیتے رہے ہیں وہ اب اُن کی انجمن کی چیزیں اُٹھا کر لے آئیں اور دلیل یہ دیں کہ چونکہ ہم غیر مبائعین کو ایک زمانہ میں کافی چندہ دیتے رہے ہیں اور ان چیزوں پر ہما را چندہ بھی خرچ ہوا ہے اس لئے ہمیں حق حاصل ہے کہ ان میں سے ہمیں جو چیز پسند آئے وہ اُٹھا لے جائیں۔مثلاً لاہور میں ہی پندرہ ہیں احمدی غیر مبائعین میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔میں نے ایک پچھلے خطبہ میں ہی ان میں سے بعض کے نام بھی لئے تھے جیسے ملک غلام محمد صاحب ہیں۔