خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 295
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۵ جلد سوم ضروری تھی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت ضروری تھی۔کیونکہ اس اعلان میں یہ بھی درج ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا فرمان ہمارے لئے آئندہ ایسا ہی ہوگا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہوا کرتا تھا۔پس ان سے پوچھنا چاہئے کہ الوصیت کے ہمیں وہ الفاظ دکھا ئیں۔اور پھر ان سے یہ پوچھنا چاہئے کہ اب ہمیں 66 الوصیت“ سے وہ دوسرے احکام دکھاؤ جن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد پہلا حکم منسوخ ہو جائے گا۔دوسری بات جو ان کے سامنے پیش کرنی چاہئے اور جس کے متعلق ان کا دعویٰ بھی سب سے زیادہ ہے وہ قرآن شریف کا ترجمہ ہے اور ان لوگوں کو ہمارے مقابلہ میں سب سے زیادہ اگر کسی بات کا دعوی ہے تو وہ یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب نے قرآن شریف کا ترجمہ کیا ہے حالانکہ قرآن کا یہ ترجمہ انجمن کے رو پیدا اور اُن تنخواہوں کو وصول کر کے کیا گیا ہے جو سلسلہ کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو دی جاتی تھیں۔پھر سلسلہ کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو صرف تنخواہ ہی نہیں ملتی تھی بلکہ پہاڑ پر جانے کے اخراجات بھی انہیں ملتے تھے اور پھر تنخواہ اور پہاڑ پر جانے کے اخراجات ہی مولوی محمد علی صاحب کو نہیں دیئے جاتے تھے بلکہ ہزاروں روپیہ کی کتب بھی سلسلہ کی طرف سے ان کو منگا کر دی گئیں تا کہ وہ ان کی مدد سے ترجمہ تیار کر سکیں اور جیسا کہ اُس وقت کے اخبارات سے معلوم ہوتا ہے ترجمہ اور قرآن کریم کے نوٹس قریباً مکمل ہو چکے تھے کیونکہ اس کی اشاعت کے لئے چندہ کی تحریک شروع کر دی گئی تھی۔پس تقریباً تمام کا تمام تر جمہ اور تفسیر وہی ہے جو صدرانجمن احمدیہ سے کئی سال تک تنخواہیں وصول کرنے اور ہزاروں روپیہ کتب پر صرف کرانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے کیا۔بعد میں سوائے اس کے کہ انہوں نے کچھ پالش کر دی ہو اور کچھ نہیں کیا۔ترجمہ اور تفسیر کا کام در حقیقت حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی ختم ہو چکا تھا اور بعد میں صرف چند مہینے انہوں نے کام کیا ہے۔شاید دو چار مہینے ورنہ اصل کام جس قدر تھا وہ اس سے پہلے ختم ہو چکا تھا اور چار سال تک مولوی محمد علی صاحب کو اس کے عوض صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے تنخواہ ملتی رہی تھی۔پس یہ ترجمہ صد را منجمن احمدیہ کا تھا اور صدرانجمن احمد یہ ہی اس کی مالک تھی مگر اب یہ ترجمہ مولوی محمد علی