خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 294

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۴ جلد سوم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نظام خلافت کی تائید کی ہے تو تم اس نظام کے کیوں مخالف ہو اور یا پھر یہ کہیں گے کہ ہم نے اُس وقت گھبرا کر اور دشمنوں کے حملے سے ڈر کر حضرت خلیفہ اول کی بیعت کر لی تھی ہمیں معلوم تو یہی تھا کہ صدرانجمن خلیفہ ہے اور ہمیں یقین اسی بات کا تھا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہی ہے مگر ہم نے سمجھا دشمن اس وقت زور میں ہے اور وہ احمدیت پر تیر چلا رہا ہے بہتر یہی ہے کہ ان تیروں کے آگے حضرت مولوی صاحب کو کھڑا کر دیا جائے چنانچہ وہ کھڑے ہو گئے اور جب ہم نے دیکھا کہ امن قائم ہو گیا ہے تو ہم اپنا حصہ لینے کیلئے آگئے۔جیسے قرآن کریم میں بعض لوگوں کے متعلق آتا ہے کہ جب انہیں جہاد میں شامل ہونے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہو جاتی ہے اور وہ مالِ غنیمت لے کر میدانِ جنگ سے واپس لوٹتے ہیں تو وہ بھی دوڑ کر ان کے ساتھ آملتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بھی تمہارے ساتھی ہیں ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملنا چاہئے۔بہر حال کوئی صورت ہو ہر حال میں ان کو شکست ہی شکست ہے۔اگر الوصیت میں خلافت کے متعلق کوئی حکم پایا جاتا ہے اور جیسا کہ ان لوگوں نے اپنے دستخطوں سے اعلان کیا کہ پایا جاتا ہے تو پھر اس حکم سے ان کا انحراف ان پر حجت قائم کرنے کیلئے کافی ہے اور اگر کوئی حکم نہ پائے جانے کے باوجود انہوں نے حضرت خلیفہ اول کو آگے کر دیا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جب حملے کا وقت تھا اُس وقت تو یہ پیچھے بیٹھے رہے مگر جب حملے کا وقت گزر گیا اور امن قائم ہو گیا تو اُس وقت یہ لوگ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمیں بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملنا چاہئے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی کو عزت دیتا ہے جو قربانیوں کے میدان میں بھی آگے سے آگے قدم بڑھاتا ہے مگر ان لوگوں نے قربانیوں میں تو کوئی حصہ نہ لیا اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی عزت کے حصے بخرے کرنے میں مشغول ہو گئے۔یہ سوال ہے جو بار بار ان لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور ان سے پوچھنا چاہئے کہ وہ بتائیں’ الوصیت میں وہ کون سے الفاظ ہیں جن کے مطابق حضرت خلیفہ اول کو خلیفہ منتخب کر کے ان کی بیعت کی گئی تھی اور جس کے ماتحت حضرت خلیفہ اول کی اطاعت ویسی ہی