خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 293

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۳ جلد سوم لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایک شخص کو خلیفہ مان کر اور اس کی اطاعت کا اقرار کر کے ہم سے غلطی ہوئی ہے۔اب کسی طرح اس غلطی کو مٹانا چاہئے تا جماعت دوبارہ اس کا ارتکاب نہ کرے۔اس مسئلہ کے متعلق ایک سوال ہے جو ہماری جماعت کے دوستوں کو یاد رکھنا چاہیئے اور ہمیشہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ یہی لوگ جو آج کہتے ہیں کہ الوصیت سے خلافت کا کہیں ثبوت نہیں ملتا ان لوگوں نے اپنے دستخطوں سے ایک اعلان شائع کیا ہوا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کے وقت انہوں نے کیا۔اس اعلان میں ان لوگوں نے صاف طور پر لکھا ہوا ہے که مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں سے اعلم اور اتقی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں۔جیسا کہ آپ کے شعر چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہوجیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔پس جماعت کے دوستوں کو ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہئے اور پوچھنا چاہئے کہ تم ہمیں ’الوصیت کا وہ حکم دکھاؤ جس کے مطابق تم نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی تھی۔اس کے جواب میں یا تو وہ یہ کہیں گے کہ ہم نے جھوٹ بولا اور یا کہیں گے کہ الوصیت میں ایسا حکم موجود ہے اور یہ دونوں صورتیں ان کے لئے کھلی شکست ہیں۔یعنی یا تو وہ یہ کہیں گے کہ ایسا حکم الوصیت میں موجود ہے ایسی صورت میں ہم ان سے کہہ سکتے ہیں کہ جب الوصیت