خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 290

خلافة على منهاج النبوة ۲۹۰ جلد سوم ہوئے تھے مگر ان پر اپنی غلطی واضح ہو گئی اور انہوں نے رونا شروع کر دیا چنانچہ جو لوگ اُس اور وقت کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ مجلس اُس وقت ایسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسے شیعوں کی مرثیہ کی مجالس ہوتی ہے۔اُس وقت لوگ اتنے کرب اور درد سے رور ہے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ مسجد ماتم کدہ بنی ہوئی ہے اور بعض تو زمین پر لیٹ کر تڑپنے لگ گئے۔پھر آپ نے فرمایا : - کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھانا یا جنازہ یا نکاح پڑھا دینا یا پھر بیعت لے لینا ہے یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔بیعت وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔آپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے دل صاف ہو گئے اور ان پر واضح ہو گیا کہ خلافت کی کیا اہمیت ہے۔تقریر کے بعد آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ وہ دوبارہ بیعت کریں۔اسی طرح آپ نے فرمایا میں ان لوگوں کے طریق کو بھی پسند نہیں کرتا جنہوں نے خلافت کے قیام کی تائید میں جلسہ کیا ہے اور فرمایا جب ہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا تو ان کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ الگ جلسہ کرتے۔ہم نے ان کو اس کام پر مقرر نہیں کیا تھا پھر جب کہ مجھے خود خدا نے یہ طاقت دی ہے کہ میں اس فتنہ کو مٹا سکوں تو انہوں نے یہ کام خود بخود کیوں کیا۔چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحب سے جو اس جلسے کے بانی تھے انہیں بھی آپ نے فرمایا کہ آپ دوبارہ بیعت کریں۔چنانچہ خواجہ کمال الدین صاحب ، مولوی محمد علی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب سے دوبارہ بیعت لی گئی۔میں نے اُس وقت یہ سمجھ کر کہ یہ عام بیعت ہے اپنا ہاتھ بھی بیعت کیلئے بڑھا دیا مگر حضرت خلیفہ اول نے میرے ہاتھ کو پرے کر دیا اور فرمایا یہ بات تمہارے متعلق نہیں۔اس موقع پر دو چار سو آدمی جمع تھے اور تمام لوگوں نے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے مگر ان لوگوں کی دیانت اور ایمانداری کا یہ حال ہے کہ خواجہ صاحب نے بعد میں لوگوں سے بیان کیا کہ ہم سے جو دوبارہ بیعت لی گئی تھی یہ بیعت ارشاد تھی جو پیر اُس وقت لیتا ہے جب وہ اپنے مرید کے اندر اعلیٰ درجے کے