خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 289
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۹ جلد سوم گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔اسی رنگ میں میں بھی کہتا ہوں کہ ہم آپ کے وفادار ہیں اور لوگ خواہ کتنی بھی مخالفت کریں ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ کے پاس اُس وقت تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہم پر حملہ کر کے پہلے ہمیں ہلاک نہ کر لے۔قریباً اسی قسم کا مضمون تھا جو رویا میں میں نے اپنی تقریر میں بیان کیا مگر عجیب بات یہ ہے کہ جب حضرت خلیفہ اول تقریر کرنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے تو اُس وقت میرے ذہن میں سے یہ رؤ یا بالکل نکل گیا اور بجائے دائیں طرف بیٹھنے کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔حضرت خلیفہ اوّل نے جب مجھے اپنے بائیں طرف بیٹھے دیکھا تو فرمایا میرے دائیں طرف آ بیٹھو پھر خود ہی فرمانے لگے تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا ہے؟ میں نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔آپ نے فرمایا تمہیں اپنی خواب یاد نہیں رہی تم نے خود ہی خواب میں اپنے آپ کو میرے دائیں طرف دیکھا تھا۔اس وقت تک ان لوگوں نے جماعت پر مسلسل یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے اس امر کا فیصلہ کیا ہوا ہے کہ میرے بعد انجمن جانشین ہوگی اور یہ کہ حضرت خلیفہ اول بھی اس سے متفق ہیں۔چنانچہ ان میں سے بعض لوگ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہوا کہ :۔انجمن کی جانشینی کا سوال ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں اُٹھا آج مولوی صاحب فوراً یہ فیصلہ کر دیں گے کہ اصل خلیفہ انجمن ہی ہے۔بعد میں اُٹھتا تو نہ معلوم کیا مشکلات پیش آتیں اور اس قسم کے پرو پیگنڈا سے ان کی غرض لوگوں کو یہ بتا نا تھی کہ حضرت خلیفہ اول ان کے خیالات سے متفق ہیں۔بہر حال حضرت خلیفہ اول تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیا ہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ میں اپنے پیر کی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں۔لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کے منہ سے جب یہ خیالات معلوم کئے تو گو جماعت کے بہت سے دوست جو ان کے ہم خیال بن کر آئے