خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 288
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۸ جلد سوم - طرح کر لیں ایک بچہ کے لئے جماعت میں فتنہ پیدا کیا جا رہا ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ اسے خلیفہ بنا کر جماعت کو تباہ کر دیں۔میں اس وقت ان حالات سے اتنا نا واقف تھا کہ میں ان کا یه فقره سن کر سخت حیران ہوا اور میں سوچنے لگا کہ یہ بچے کا ذکر کیا شروع ہو گیا ہے اور وہ کون سا بچہ ہے جسے لوگ خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔اس کے متعلق بھی مجھے بعد میں حضرت خلیفہ اول سے ہی معلوم ہوا کہ بچہ سے ان کی کیا مراد ہے۔اور وہ اس طرح کہ اُس روز صبح کی نماز کے بعد میں بھی بعض باتیں لکھ کر حضرت خلیفہ اول کے پاس لے گیا اور گفتگو کے دوران میں میں نے ذکر کیا کہ خبر نہیں آج مسجد میں کیا باتیں ہو رہی تھیں کہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے ایک بچہ کی ہم بیعت کس طرح کر لیں۔ایک بچہ کی وجہ سے جماعت میں یہ تمام فتنہ ڈالا جا رہا ہے نہ معلوم یہ بچہ کون ہے؟ حضرت خلیفہ اول میری اس بات کو سن کر مسکرائے اور فرمانے لگے تمہیں معلوم نہیں وہ بچہ کون ہے؟ وہ تمہیں تو ہو۔خیر اس کے بعد میٹنگ ہوئی اس میٹنگ کے متعلق بھی میں نے ایک رؤیا دیکھا جو حضرت خلیفہ اول کو میں نے سنا دیا تھا اور دراصل یہی رؤیا بیان کرنے کے لئے میں صبح کے وقت حضرت خلیفہ اول کے پاس گیا تھا۔میں نے رویا میں دیکھا کہ مسجد میں جلسہ ہو رہا ہے اور حضرت خلیفہ اوّل تقریر فرما رہے ہیں مگر آپ اُس حصہ مسجد میں کھڑے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بنوایا تھا۔اُس حصہ مسجد میں کھڑے نہیں ہوئے جو بعد میں جماعت کے چندہ سے بنوایا گیا تھا۔آپ تقریر مسئلہ خلافت پر فرما رہے ہیں اور میں آپ کے دائیں طرف بیٹھا ہوں۔آپ کی تقریر کے دوران میں خواب میں ہی مجھے رقت آگئی اور بعد میں کھڑے ہو کر میں نے تقریر کی جس کا خلاصہ تقریباً اس رنگ کا تھا کہ آپ پر اِن لوگوں نے اعتراض کر کے آپ کو سخت دکھ دیا ہے مگر آپ یقین رکھیں کہ ہم نے آپ کی سچے دل سے بیعت کی ہوئی ہے اور ہم آپ کے ہمیشہ وفادار رہیں گے۔پھر خواب میں مجھے انصار کا وہ واقعہ یاد آ گیا جب ان میں سے ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ يَارَسُولَ اللہ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور با ئیں بھی لڑیں گے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے