خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 287

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۷ جلد سوم ویسی ہی اطاعت کرتا ہے جیسے نبض حرکت قلب کی کرتی ہے۔ایسے بے نفس آدمی کے زمانہ میں اس سوال کا پیدا ہو جانا بڑی بابرکت بات ہے۔ان کے بعد ہوتا تو نہ معلوم کیا فساد کھڑا ہوتا۔گو یا جماعت کو یہ یقین دلایا جانے لگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے اور یہ کہ ان خیالات میں حضرت خلیفہ اول بھی ان سے متفق ہیں۔لاہور میں تو خصوصیت سے خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر ایک جلسہ کیا جس میں تمام جماعت لاہور کو بلایا گیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ پر یہ ایک ایسا نازک وقت ہے کہ اگر دُوراندیشی سے کام نہ لیا گیا تو سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل جانشین انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت ( نَعُوذُ بالله ) تباہ ہو جائے گی اور سب لوگوں سے اس بات پر دستخط لئے گئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمان کے مطابق انجمن ہی آپ کی جانشین ہے اور لاہور کی جماعت نے انہی تاثرات کی وجہ سے کہ حضرت خلیفہ اول کے بھی یہی خیالات ہیں اس پر دستخط کر دیئے صرف حکیم محمد حسین صاحب قریشی مرحوم نے اُن کی اِس بات کو بالکل رڈ کر دیا اور کہا ہم تمہارے کہنے سے اس پر دستخط نہیں کر سکتے۔یہ تمہارے خیالات ہیں حضرت خلیفہ اول کے خیالات نہیں اور ہم ایسے محضر نامه پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہیں۔ہم جب ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں اور وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیت اللہ رکھنے والا ہے تو جو کچھ وہ کہے گا وہی ہم کریں گے۔تمہارے خیالات کی ہم تصدیق نہیں کریں گے۔چنانچہ ان کی دیکھا دیکھی ایک دو اور دوست بھی رُک گئے مگر بہر حال لاہور کی اکثریت جماعت نے دستخط کر دیے۔آخر حضرت خلیفہ اول نے ایک تاریخ مقرر کی جس میں بیرونی جماعتوں کے نمائندگان کو بھی بلایا اور ہدیت فرمائی کہ اُس دن مختلف جماعتوں کے قائم مقام قادیان میں جمع ہو جائیں تا سب سے اس کے متعلق مشورہ لے لیا جائے۔چنانچہ لوگ جمع ہوئے۔اس دن صبح کی نماز کے وقت میں بیت الفکر کے پاس کے دالان میں نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا مسجد بھری ہوئی تھی اور حضرت خلیفہ اول کی آمد کا انتظار کیا جا رہا تھا کہ میرے کان میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ وہ مسجد میں بڑے جوش سے کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی بچے کی بیعت کس