خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 281

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۱ جلد سوم اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اُسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے چه چہ خوش بودے اگر ہر یک ز اُمت نوردیں بودے بودے اگر ہر دل پر از نور یقین بودے ہمیں سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔لے اس اعلان کے بعد وہ جماعت جو صداقت کی شیدا تھی جس نے بڑی بڑی قربانیوں اور اپنے رشتہ داروں کو خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑنے کے بعد ایمان کی دولت حاصل کی تھی کب ان لوگوں کی باتوں سے متاثر ہو سکتی تھی۔چنانچہ جتنا زیادہ یہ لوگ اس بات کو دُہراتے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ خلیفہ اور جانشین صدر انجمن احمد یہ ہے اُتنا ہی زیادہ جماعت میں جوش پیدا ہوتا چلا جاتا کیونکہ وہ حیران تھی کہ پہلے انہی لوگوں نے یہ کہا تھا کہ خلافت کا انتخاب الوصیت کے مطابق ہے اور اب یہی کہہ رہے ہیں کہ اصل جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمد یہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے ہاتھ پہلے ہی کاٹ کر رکھ دیئے تھے۔ممکن ہے اگر انہوں نے یہ اعلان نہ کیا ہوا ہوتا تو جماعت کو ان کی تقریروں کی وجہ سے ٹھوکر لگ جاتی۔مگر چونکہ یہ لوگ خود ایک اعلان شائع کر چکے تھے اس لئے اب جو اس کے خلاف انہوں نے تقریریں کیں تو لوگوں میں جوش پید ہوا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ ان کی اصل غرض حضرت خلیفہ اول کو خلافت سے جواب دینا ہے اور ان کی نیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تعلیم کو جماعت میں قائم کرنا نہیں بلکہ فتنہ وفساد اور تفرقہ پیدا کرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء جب وفات پاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے بعد نشان کے طور پر خلافت کو قائم کیا کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جس طرح اس نے نبی کی شخصی زندگی کو الہام سے شروع کیا اسی طرح وہ اس کی قومی زندگی کو بھی الہام سے شروع کرے۔یہی وجہ ہے کہ