خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 276

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس جلسہ کے بعد ان کو اپنی نئی ذمہ داریاں بہت جوش اور توجہ کے ساتھ ادا کرنی چاہئیں۔اب ہماری پہلی فصل کے جو نتائج رونما ہوئے ہیں ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اگر اس سے زیادہ نہیں تو کم سے کم اتنے ہی گنے نتائج نئی فصل کے ضرور رونما کر دیں اور اگر پہلے ایک سے لاکھوں ہوئے تو آج سے پچاس سال کے بعد وہ کروڑوں ضرور ہو جائیں۔اگر آج سے پچیس سال پہلے جماعت دس بارہ گنے بڑھی تھی تو اگلے پچیس سال میں کم سے کم دس بارہ گنے ضرور بڑھ جانی چاہیے۔مگر یہ کیونکر ہوسکتا ہے جب تک ہر احمدی کیا مرد اور کیا عورت اور کیا بچہ اور کیا بوڑھا اور کیا کمزور اور کیا مضبوط اپنے ذمہ یہ فرض عائد نہ کرلے کہ میں احمدیت کی ترقی کیلئے اپنے اوقات صرف کروں گا اور اپنی زندگی کا اولین مقصد اشاعت دین اور اشاعت احمدیت سمجھوں گا۔اسی طرح علمی طور پر کب ترقی ہو سکتی ہے جب تک ہماری جماعت کا ہر فرد دین سیکھنے اور دینی باتیں سننے اور پڑھنے کی طرف توجہ نہ کرے۔اسی طرح مالی قربانی میں کب ترقی ہو سکتی ہے جب تک ہماری جماعت نہ صرف قربانیوں میں بیش از پیش ترقی کرے بلکہ اپنے اخراجات میں بھی دیانت داری سے کام لے۔مال ہمیشہ دونوں طرح سے بڑھتا ہے زیادہ قربانیوں سے بھی بڑھتا ہے اور زیادہ دیانت داری سے خرچ کرنے سے بھی بڑھتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک شخص کو ایک دینار دیا اور فرمایا جا کر قربانی کیلئے کوئی عمدہ سا بکرالا دو۔اس نے کہا بہت اچھا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ حاضر ہوا اور کہنے لگا يَارَسُولَ اللهِ! یہ بکرا موجود ہے اور ساتھ ہی اُس نے دینا ر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حیران ہوئے اور فرمایا یہ کس طرح؟ وہ کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ ! مدینہ میں شہر کی وجہ سے چیزیں گراں ملتی ہیں میں دس بارہ میل باہر نکل گیا وہاں آدھی قیمت پر بکرے فروخت ہو رہے تھے میں نے ایک دینار میں دو بکرے لے لئے اور واپس چل پڑا۔جب میں آرہا تھا تو رستہ میں ایک شخص مجھے ملا اسے بکرے پسند آئے اور کہنے لگا کہ اگر فروخت کرنا چا ہو تو ایک بکرا مجھے دے دو میں نے ایک بکرا ایک دینار میں اسے دے دیا پس اب بکرا بھی حاضر ہے اور -