خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 274

خلافة على منهاج النبوة ۲۷۴ جلد سوم اس نبی کے بلائے جانے کے بعد دنیا میں جو بھی بیج بوئے ہوئے ہوتے ہیں وہ پھر نئی جد و جہد شروع کر دیتے ہیں۔نبوت خلافت کا جامہ پہن لیتی ہے اور خلافت کے ذریعہ پھر خدا کیلئے نئے قلوب کی فتح شروع ہو جاتی ہے۔یہی اس زمانہ میں ہوا اور جب ہم نے ایک جشن منایا ، ایک خوشی کی تقریب سرانجام دی تو کسان کی زبان میں ہم نے یہ کہا کہ ہم نے پہلی فصل کاٹ لی مگر کیا جانتے ہو کہ دوسرے لفظوں میں ہم نے کیا کہا ؟ دوسرے لفظوں میں ہم نے یہ کہا کہ آج سے پچاس سال پہلے جو ایک بیج بویا گیا تھا اُس پیج کی فصل ہم نے کاٹ لی اب ہم ان بیجوں سے جو پہلی فصل سے تیار ہوئے تھے ایک نئی فصل بونے لگے ہیں۔اس عظیم الشان کام کے آغاز کے بعد تم سمجھ سکتے ہو کہ تم پر کتنی عظیم الشان ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔تم نے اب اپنے اوپر یہ ذامہ داری عائد کی ہے کہ جس طرح ایک بیج بڑھ کر اتنی بڑی فصل ہو گیا اسی طرح اب تم ان بیجوں کو بڑھاؤ گے جو اس فصل پر تم نے بوئے ہیں اور اسی رنگ میں بڑھاؤ گے جس رنگ میں پہلی فصل بڑھی۔پس ہم نے جشن مسرت منا کر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جس طرح ایک پیج سے لاکھوں نئے بیج پیدا ہو گئے تھے اسی طرح اب ہم ان لاکھوں بیجوں کو از سرنو زمین میں بوتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ پچھلے چھپیس یا پچاس سال میں جس طرح سلسلہ نے ترقی کی ہے اسی طرح اتنے ہی گنے اگلے چھپیں یا پچاس سال میں ہم آج کی جماعت کو بڑھا دیں گے یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں جو تم نے اپنے اوپر عائد کی۔گزشتہ پچاس سال میں ایک بیج سے لاکھوں بیج بنے تھے اب جب تک اگلے پچاس سال میں ان لاکھوں سے کروڑوں نہیں بنیں گے اُس وقت تک ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں سمجھے جائیں گے۔اگر ہم جشن نہ مناتے اگر ہم یہ نہ کہتے کہ الحمدللہ کہنے کا زمانہ آ گیا تو ہم إياكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا زمانہ بھی پیچھے ڈال سکتے تھے مگر جب ہم نے جشن منا لیا اور پہلی فصل کاٹ لی تو بالفاظ دیگر ہم نے دوسری فصل کو بود یا اور ہمارا کام از سر نو شروع ہو گیا اور جب کہ ایک پیج سے اتنے دانے نکلے تھے تو کیا اب ہمارا فرض نہیں کہ ہم ان بیجوں کو اتنے گنے بڑھائیں جتنے گنے وہ ایک بیج بڑھا اور پھولا اور پھلا پس یقیناً اس جشن کے بعد ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو چکی ہے۔کیونکہ کیا بلحاظ جانی قربانیوں کے، کیا بلحاظ مالی