خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 270

خلافة على منهاج النبوة ۲۷۰ جلد سوم آخر پوچھا تو اس کے ہوش ٹھکانے آئے اور کہنے لگا کہ مجھ پر بجلی گر پڑی ہے تو وہ اتنی زور کی کڑک تھی کہ ہر شخص نے یہ سمجھا کہ اسی کے قریب بجلی گری ہے۔اس کڑک کی وجہ سے اور کچھ بادلوں کی وجہ سے تمام لوگ کمروں میں چلے گئے۔جس وقت بجلی کی یہ کڑک ہوئی اُس وقت ہم بھی جو صحن میں سورہے تھے اُٹھ کر اندر چلے گئے مجھے آج تک وہ نظارہ یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب اندر کی طرف جانے لگے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر پر رکھ دیئے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے ان پر نہ گرے۔بعد میں جب میرے ہوش ٹھکانے آئے تو مجھے اپنی اس حرکت پر ہنسی آئی کہ ان کی وجہ سے تو ہم نے بجلی سے بچنا تھا نہ یہ کہ ہماری وجہ سے وہ بجلی سے محفوظ رہتے۔میں سمجھتا ہوں میری وہ حرکت ایک مجنوں کی حرکت سے کم نہیں تھی مگر مجھے ہمیشہ خوشی ہوا کرتی ہے کہ اس واقعہ نے مجھ پر بھی اُس محبت کو ظاہر کر دیا جو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھی۔بسا اوقات انسان خود بھی نہیں جانتا کہ مجھے دوسرے سے کتنی محبت ہے جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہو تو اسے بھی اپنی محبت کی وسعت اور اس کی گہرائی کا اندازہ ہو جاتا ہے تو جس وقت محبت کا انتہائی جوش اُٹھتا ہے عقل اُس وقت کام نہیں کرتی محبت پرے پھینک دیتی ہے عقل کو۔اور محبت پرے پھینک دیتی ہے فکر کو۔اور وہ آپ سامنے آجاتی ہے جس طرح چیل جب مرغی کے بچوں پر حملہ کرتی ہے تو مرغی بچوں کو جمع کر کے اپنے پروں کے نیچے چھپا لیتی ہے اور بعض دفعہ تو محبت ایسی ایسی حرکات کرا دیتی ہے کہ دنیا اسے پاگل پنے کی حرکات قرار دیتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جنون دنیا کی ساری عقلوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے اور دنیا کی ساری عقلیں اس ایک مجنونانہ حرکت پر قربان کی جاسکتی ہیں کیونکہ اصل عقل وہی ہے جو محبت سے پیدا ہوتی ہے۔نبی کو بھی جب آواز آتی ہے کہ خدا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا خدا۔خدا عزت و شوکت کو پیدا کرنے والا خدا، بادشاہوں کو گرا اور گداؤں کو بادشاہ بنانے والا خدا حکومتوں کو قائم کرنے اور حکومتوں کو مٹانے والا خدا ، دولتوں کے دینے اور دولتوں کو لے لینے والا خدا ، رزق کے دینے اور رزق کو چھیننے والا خدا ، زمین و آسمان کے ذرہ ذرہ اور کائنات کا مالک خدا آواز دیتا ہے ایک کمزورونا تو اں اور نحیف انسان کو کہ میں مدد کا محتاج