خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 269

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۹ جلد سوم قدم قدم پر قربانیاں پیش کرنی پڑتی ہیں اور وہاں قدم قدم پر مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے پس نبیوں کا جواب اپنے خدا کو ویسا ہی ہوتا ہے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر جیسے اس غریب آدمی نے امیر آدمی کو دیا۔بے شک اگر ہم معقولات کی نظر سے اس کو دیکھیں اور منطقی نقطہ نگاہ سے اس پر غور کریں تو اس غریب آدمی کی یہ حرکت ہنسی کے قابل نظر آتی ہے کیونکہ اس امیر کے ہزاروں نوکر چاکر تھے ان کے ہوتے ہوئے اس کی بیوی نے کیا زائد خدمت کر لینی تھی ، اسی طرح وہ لاکھوں کا مالک تھا اس کو سو ڈیڑھ سو روپیہ کی تھیلی کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی اور خود اس کے کئی پہریدار اور محافظ تھے اس کو اس دوست کی تلوار کیا نفع پہنچا سکتی تھی مگر محبت کے جوش میں اس نے یہ نہیں سوچا کہ میری تلوار کیا کام دے گی، میرا تھوڑا سا روپیہ کیا فائدہ دے گا اور میری بیوی کیا خدمت سر انجام دے سکے گی اُس نے اتنا ہی سوچا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ مجھے حاضر کر دینا چاہیے۔ایسے ہی بے وقوفی کے واقعات میں مجھے بھی اپنا ایک واقعہ یاد ہے کئی دفعہ اس واقعہ کو یاد کر کے میں ہنسا بھی ہوں اور بسا اوقات میری آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ہیں مگر میں اسے بڑی قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا کرتا ہوں اور مجھے اپنے زندگی کے جن واقعات پر ناز ہے ان میں وہ ایک حماقت کا واقعہ بھی ہے وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک رات ہم سب صحن میں سور ہے تھے گرمی کا موسم تھا کہ آسمان پر بادل آیا اور زور سے گر جنے لگا اِسی دوران میں قادیان کے قریب ہی کہیں بجلی گر گئی مگر اس کی کڑک اس زور کی تھی کہ قادیان کے ہر گھر کے لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ بجلی شاید ان کے گھر میں ہی گری ہے۔ہمارے مدرسہ میں ہی ایک واقعہ ہوا جس کو یاد کر کے لڑکے مدتوں ہنستے رہے اور وہ یہ کہ فخر دین ملتانی جو بعد میں مرتد ہو گیا وہ اُس وقت طالبعلم تھا اور بورڈنگ ہاؤس میں رہا کرتا تھا جب بجلی کی زور سے کڑک ہوئی تو اُس نے اپنے متعلق سمجھا کہ بجلی شاید اُس پر گری ہے اور وہ ڈر کے مارے چار پائی کے نیچے چھپ گیا اور زور زور سے آواز دینے لگا کہ بلی بلی۔بجلی کا لفظ اس کے منہ سے نکالتا ہی نہیں تھا ڈر کے مارے بلی بلی کہنے لگ گیا پہلے تو سارے ہی لڑکے بھاگ کر کمروں میں چلے گئے مگر پھر تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلے تو اسے چار پائی کے نیچے چھپا ہوا پایا اور دیکھا کہ وہ بلی بلی کر رہا ہے۔