خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 261

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۱ جلد سوم اکٹھا کر دیں گے جب کہوں گا کہ جانی قربانی کرو تو وہ بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے سر کٹانے کیلئے آگے آجائیں گے اور اگر اور سامانوں کا مطالبہ کروں گا تو ہ وہ حاضر کر دیں گے۔پھر ان کے سامنے اپنی کامیابیوں کی ایک تاریخ موجود ہے لمبی اور مسلسل تاریخ۔فرانس کے کمانڈر انچیف کے سامنے فرانس کی کامیابیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے اور انگلستان کے کمانڈرانچیف کے سامنے انگلستان کی کامیابیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے۔وہ جانتے ہیں کہ وہ کس طرح بری اور بحری جنگوں میں کو دے اور ہر میدان میں وہ فاتح اور کامیاب رہے یہ ساری چیزیں ان کے سامنے موجود ہیں مگر باوجود اس کے وہ گھبراتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اس جنگ کا کیا نتیجہ ہو گا حالانکہ یہ جنگ صرف تلوار کی جنگ ہے دلوں کو فتح کرنے کی جنگ نہیں جو تلوار کی جنگ سے بہت زیادہ اہم اور بہت زیادہ کٹھن ہوتی ہے۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ آواز جو اس کے کان میں پڑی اُس نے اُس کے دل میں کیا تغیر پیدا کیا ہوگا مگر اُس نے اس آواز کو ہنسی میں نہیں ڈالا اس نے اسے پاگلا نہ خیال نہیں سمجھا ، اس نے اسے بیماری کا نتیجہ قرار نہیں دیا بلکہ اس نے اسے خدا ہی کی آواز قرار دیا اور کہا اے خدا ! میں حاضر ہوں۔اس جواب کے بعد اس نے اپنی باقی رات کس طرح گزاری ہوگی اس کا اندازہ دنیا کا کوئی شخص نہیں لگا سکتا۔ایک بلبلہ جس طرح سمندر کی سطح پر نمودار ہوتا ہے بالکل اسی طرح وہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوا بلکہ بلبلہ اور سمندر کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ بھی اس کے مقابلہ میں بیچ ہے ایک چھوٹا سا بیچ تھا جو بہت بڑے جنگل میں ڈال دیا گیا جہاں خشکی ہی خشکی تھی اور پانی کا ایک قطرہ نہ تھا جہاں ریت ہی ریت تھی اور مٹی کا ایک ذرہ نہ تھا بلکہ وہ بیج جو بیابان میں ڈال دیا جائے ایسے ریگستان میں ڈال دیا جائے جہاں پانی نہیں اور جہاں مٹی کا ایک ذرہ نہیں اس کیلئے بھی بڑھنے کا کچھ نہ کچھ موقع ہو سکتا ہے اُس بلبلے کو بھی کچھ دیر زندہ رہنے کا موقع مل جاتا ہے جسے سمندر کی ہوائیں اِدھر اُدھر لے جاتی ہیں مگر اس کے لئے تو اتنی بھی امید نہ تھی جتنی بلبلے کے متعلق سمندر کی لہروں میں اُمید کی جاتی ہے اور اس کیلئے اتنی بھی نہ تھی جتنی اس پیج کے متعلق امید کی جاسکتی ہے جو ایک وسیع ریگستان میں ڈال دیا جائے۔پھر کوئی شخص نہ تھا جس سے وہ مشورہ کر سکتا اور وہ مشورہ کرتا تو کس سے کرتا۔مید نہ