خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 258
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۸ جلد سوم سے کبھی عہدہ بر آنہیں ہو سکتے۔اس پچاس سالہ دور کے متعلق ہم نے جو خوشی منائی ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اس دور کی پہلی فصل کس طرح شروع ہوئی تھی جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس پہلی فصل کا بیج صرف ایک انسان تھا۔رات کو دنیا سوئی۔ساری دنیا اس بات سے نا واقف تھی کہ خدا اس کے لئے کل کیا کرنے والا ہے۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کل کیا ظاہر کرنے والی ہے۔یہ آج سے پچاس سال پہلے کی بات ہے ایک فرد بھی دنیا کا نہیں تھا جس کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے۔یک دم بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انتباہ ہو بغیر اس کے کہ پہلے کوئی انذار ہو، بغیر اس کے کہ پہلے کوئی اعلان ہو ایک شخص جس کو خود بھی یہ معلوم نہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے خدا نے اُس کو جگایا اور کہا کہ ہم دنیا میں ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنانا چاہتے ہیں اور تم کو اس زمین اور آسمان کے بنانے کیلئے معمار مقرر کرتے ہیں۔اُس کیلئے یہ کتنی حیرت کی بات ہوگی۔اس وسیع دنیا میں بڑی بڑی حکومتیں قائم تھیں ، بڑے بڑے نظام قائم تھے پھر اس وسیع دنیا میں باوجو د مسلمانوں کے سابقہ شوکت کھو چکنے کے آج سے پچاس سال پہلے ان کی حکومتیں موجود تھیں۔لڑکی ابھی ایک بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی، مصرا بھی آزاد تھا ، ایران اور افغانستان آزاد تھے اور یہ اسلامی حکومتیں اسلام کی ترقی اور اس کی تہذیب کا گہوارہ کہلاتی تھیں مگر یہاں وہ آواز پیدا نہیں ہوئی۔خدا نے ترکوں کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی ، خدا نے مصر کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی ، خدا نے ایران کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی ، خدا نے افغانستان کے بادشاہ سے یہ بات نہیں کہی ، خدا نے ترکی اور مصر وغیرہ کے جو شیخ الاسلام کہلاتے یا علماء کے رئیس کہلاتے تھے اُن سے یہ نہیں کہا بلکہ ہندوستان کے ایک شخص سے خدا نے یہ بات کہی اور ہندوستان میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے کلکتہ یا بمبئی کے کسی بڑے رئیس یا عالم سے یہ بات نہیں کہی ، لاہور یا امرتسر کے کسی بڑے رئیس یا عالم سے یہ بات نہیں کہی ، کسی ظاہری مرکز یا علمی اور سیاسی مرکز میں رہنے والے سے یہ بات نہیں کہی بلکہ خدا نے ریل سے دور، تمدن سے دور تعلیمی مرکزوں سے دور قادیان میں ایک ایسی بستی میں جو کور کہلانے کی مستحق تھی اور جس