خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 253
خلافة على منهاج النبوة ۲۵۳ خلافت جو بلی کی تقریب کے متعلق جلد سوم حملہ مجھ خطبه جمعه فرموده ۱۲ / جنوری ۱۹۴۰ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔وو میں آج ایک اہم امر کے متعلق خطبہ پڑھنا چاہتا تھا اور میں اس بات کی ضرورت سمجھتا تھا کہ اس مضمون کو زیادہ بسط کے ساتھ بیان کیا جائے لیکن جلسہ کے بعد جو انفلوئنزا کا پر ہوا پیچھے اس میں بہت حد تک کمی آجانے کے بعد پرسوں سے پھر دوبارہ میرے سینہ پر نزلہ گرنا شروع ہو گیا ہے اور اس کی وجہ سے میں زیادہ نہیں بول سکتا اور نہ اونچا بول سکتا ہوں مگر مضمون کی اہمیت اور اس کا موقع یہ چاہتا ہے کہ میں اسے پیچھے نہ ڈالوں اور جلد سے جلد اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار جماعت کے سامنے کر دوں اس لئے باوجود طبیعت کی خرابی کے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ میں آج خطبہ میں اسی مضمون کو بیان کروں۔ہماری جمات نے اس جلسہ کو جو ابھی گزرا ہے ایک خوشی اور شکریہ کا جلسہ قرار دیا ہے کیا بلحاظ اس کے کہ باوجود دنیا بھر کی مخالفتوں کے وہ نبوت کا پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں لائے تھے اور جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میری بڑی مشکلات میں سے ایک نبوت کا مسئلہ بھی رہا ہے کیونکہ لوگ اس مسئلہ کے سمجھنے کی قابلیت کم رکھتے تھے اور غلط خیالات اور غلط عقائد نے لوگوں کے دماغوں پر ایسا قبضہ جمالیا تھا کہ وہ اس عقیدہ میں کسی اصلاح کیلئے تیار نہ تھے باوجود دنیا کی مخالفت کے پچاس سالہ عرصہ میں برا بر دنیا میں پھیلتا چلا گیا ہے اور جس عقیدہ کے متعلق لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ کسی صورت میں تسلیم کئے جانے کے قابل نہیں وہ دنیا کے ہر گوشہ میں تسلیم کیا جانے لگا ہے اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے تمام براعظموں میں اس عقیدہ کے ماننے والے لوگ