خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 248
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۸ جلد سوم میں منانے سے ہو سکتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مگر تیل خرچ کر دینے پر خدا تعالیٰ کیا کہہ سکتا ہے کیا وہ کہے گا کہ ان میرے بندوں کو جنت میں اعلیٰ درجہ کے انعام دو کیونکہ یہ بازار سے تیل خرید کر لائے ، بہت سے دیئے جلائے اور اس طرح اپنی آنکھیں تو خوش کر لیں مگر میرے کسی بھوکے اور پیاسے بندے کی خبر نہ لی۔یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی زبان پر سجتا نہیں مگر وہ دوسرا فقرہ تو دل کو لگتا ہے اور اُس سے ایسا درد پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کسی طرح اسے خدا تعالیٰ سے اپنے لئے سن لے۔مگر یہ تو ایسا ہے کہ نہ اسے کان برداشت کر سکتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کی زبان سے زیب دیتا ہے۔پس جو کرنا چاہو کرو لیکن شریعت کے مطابق کرو اور ایسے رنگ میں کرو کہ دنیا بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکے جب تمہارے کام دنیا کے لئے مفید بن جائیں گے تو خدا تعالیٰ دنیا کے دوسرے کاموں کو بھی تمہارے لئے مفید بنا دے گا۔جب تم لوگوں کیلئے اپنے کاموں کو مفید بناؤ گے تو خدا تعالیٰ دوسروں کے کام تمہارے لئے مفید بنا دے گا۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اور جس کیلئے اب میں ایک دومنٹ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتا یہ ہے کہ جلسہ سالانہ کے دن قریب ہیں اس لئے دوستوں کو چاہیے کہ اپنی خدمات اور مکانات بھی پیش کریں جن کے دلوں میں یہ جوش اُٹھتا ہے کہ جو بلی کے موقع پر شعر پڑھتے ہوئے چلتے جائیں انہیں چاہیے کہ جلسہ پر آنے والوں کیلئے مکان بھی خالی کر کے دیں اور اپنی خدمات بھی پیش کریں۔پس اگر جو بلی کے موقع پر خوشی منانا چاہتے ہو تو اس کا بہترین طریق یہی ہے کہ غرباء کو کھانا کھلاؤ مکانات خالی کر کے مہمانوں کیلئے پیش کرو اور اپنے افراد کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں فارغ کر کے خدمات کیلئے پیش کرو۔یہ تو ٹھیک نہیں کہ تم لوگوں کیلئے اعلان تو یہ کرو کہ آجاؤ آ جاؤ اور اگر وہ آجائیں تو نہ ان کے رہنے کیلئے کوئی مکان ملے اور نہ کوئی خدمت کرنے والا ہو۔لوگ آئیں اور یہاں ان کیلئے نہ رہائش کا انتظام ہوا اور نہ کوئی پوچھنے والا ہو تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ کتنے بے حیا لوگ ہیں پہلے تو شور کر رہے تھے کہ آؤ آؤ اور اب آئے تو کہتے ہیں کہ تم سے کوئی جان پہچان ہی نہیں۔جب لوگ زیادہ آئیں گے تو ان کے کھانے پینے کیلئے بھی زیادہ اشیاء درکار ہوں گی مکان بھی زیادہ