خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 247
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۷ جلد سوم مہمان کیلئے لاہور سے منگوائے۔اسی طرح چراغاں اپنی ذات میں بے شک منع نہیں سب لوگ اپنے گھروں میں لیمپ یا دئیے وغیرہ جلاتے ہیں اس لئے غیروں کی دلجوئی اور انہیں خوش کر نے کیلئے ان کی کسی تقریب پر چراغاں کرنے میں کوئی حرج نہیں۔اب بھی اگر بادشاہ یا حکومت کی کوئی تقریب ہو اور وہ کہے کہ چراغاں کرو تو ہم کر دیں گے کیونکہ حکومت کی عزت ہم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اور ایسا کر دینے سے ہمارا خدا بھی ہم سے خوش ہوگا اور حکومت بھی۔مگر یہی بات ہم اپنی کسی مذہبی تقریب پر اختیار نہیں کر سکتے اگر تو حکم کے ماتحت چراغ جلاتے ہیں تو ہمیں ثواب بھی پہنچتا ہے کہ ہم نے حکم مانا یہ جلا نا ضائع نہیں جائے گا ورنہ یوں کسی غریب کو روٹی کھلا دینا اس سے بہت زیادہ بہتر ہے کہ انسان گھر میں پندرہ ہیں دیئے جلائے۔دیئے جلانے میں کم سے کم ڈیڑھ دو آنہ کا تیل تو ضائع ہوگا اور اتنے پیسوں میں دوغریبوں کا جو فاقہ سے تڑپ رہے ہوں پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔بتاؤ یہ اچھا ہے کہ دیئے جلا کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچالی جائے یا کسی غریب کا پیٹ بھر کر اللہ تعالیٰ کو خوش کیا جائے۔تو چراغاں کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس کا شریعت نے حکم دیا ہے۔شریعت نے صدقہ کا حکم دیا ہے اور اس سے کئی فوائد بھی ہیں اس طرح کئی لوگوں کی طرف جن کا ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا توجہ ہو جاتی ہے اور پھر دوسرے کی مصیبت اور اپنی خوشی کے موقع پر اس کی طرف توجہ ہو جاتی ہے پس ایسی تقریبات کے موقع پر ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ یورپین لوگوں کی نقل نہ ہو بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے متعلق فرمائے گا کہ ان کو جنت میں اعلیٰ انعام دو۔میں بھوکا تھا انہوں نے مجھے کھانا کھلایا میں ننگا تھا انہوں نے مجھے کپڑے پہنائے وہ لوگ استغفار پڑھیں گے اور کہیں گے یا الہی ! یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ تو بھوکا پیاسا یا ننگا ہو اور ہم کنگال کیا حیثیت رکھتے تھے کہ تجھے کھانا کھلاتے یا کپڑے پہناتے مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ نہیں تم نے ایسا ہی کیا جبکہ میرے غریب بندے بھوکے تھے اور تم نے اُن کو کھانا کھلایا وہ پیاسے تھے تم نے انہیں پانی پلایا وہ ننگے تھے اور تم نے انہیں کپڑے پہنائے شے غور کرو یہ کتنا عظیم الشان درجہ ہے جو غریبوں کو کھانا کھلانے سے حاصل ہو سکتا ہے اور خوشیوں کو ایسے رنگ