خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 12

خلافة على منهاج النبوة ۱۲ جلد سوم خلافت ترکی اور مسلمانانِ ہند ( فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۲۴ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا :۔” عام قدرتی قواعد کے ماتحت یہ بات بُری سمجھی جاتی ہے کہ کوئی شخص کسی موقع پر اپنے بھائی کو یہ کہے کہ تم نے میری فلاں بات نہ مانی تو یہ نقصان ہوا۔قرآن کریم نے ایک لڑائی کے موقع کا ذکر کر کے بعض لوگوں کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے جو مشورہ دیا تھا اس کے خلاف جن کی رائے تھی ان کی رائے پر عمل کیا گیا اس لئے نقصان ہوا لے۔اس بات کو اللہ تعالیٰ نے نا پسند فرمایا ہے اور کہا کہ یہ منافقت ہے۔اگر تمہارے منشاء کے خلاف تھا اور اس سے نقصان بھی ہوا تو بھی نہیں کہنا چاہئے تھا۔کیونکہ یہ ضروری نہیں تھا کہ تم نے جو مشورہ دیا تھا وہ ضرور مانا جاتا۔تو یہ ایک تمدنی غلطی ہے جو قوموں میں رائج ہے۔اور اس کی قرآن کریم نے تصدیق فرمائی ہے۔اور ایسا کہنے کو منافقت ٹھہرایا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے خلاف چلنے والوں کو بھی بات کہی ہے جو عام تمدنی حالات میں درست نہ تھی کہ تم نے اس کی رائے کے خلاف کیا اس لئے نقصان ہوا۔یہ کیوں کہا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھائی بھائی کو یا دوست دوست کو یا چھوٹا بڑے کو یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ تم نے میری رائے کے خلاف کیا اس لئے نقصان اُٹھایا۔مگر جو بڑا ہے اور جس کو یہ حق ہے کہ دوسروں کی راہنمائی کرے اور جس کا کام سمجھا نا ہو اور لوگوں کی نگرانی کرنا ہو وہ کہہ سکتا ہے۔ہے۔بچہ کو حق نہیں کہ ماں باپ کو کہے تم نے میری فلاں بات نہ مانی اس لئے نتیجہ اچھا نہ نکلا مگر