خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 244
خلافة على منهاج النبوة ۲۴۴ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوِدَاع جلد سوم یعنی آج ہم پر چودھویں رات کا چاند فلاں گوشے سے طلوع ہوا ہے یہ سب لوگ استقبال کیلئے باہر نکلے تھے اور جب آپ کو دیکھا تو یہ شعر پڑھنے لگے مگر یہ وہ زمانہ تھا جب ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح دیکھا بھی نہ تھا بلکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ان لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر آپ پر کوئی دشمن مدینہ میں حملہ آور ہو گا تو ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن اگر آپ مدینہ سے باہر لڑنے جائیں تو ہم پر کوئی ذمہ داری نہ ہو گی مگر اس سے زیادہ پھر بھی ثابت نہیں کہ لوگوں نے جمع ہو کر شعر پڑھے۔یہ ثابت نہیں کہ تکلف کے ساتھ ایک پہلے شعر پڑھتا ہے دوسرے اس کے پیچھے مٹکتے جاتے ہیں اور بعد میں اس کے شعر کو یا اس کے ٹکڑے کو دہرا دیتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خودشعر پڑھوا کر سنتے تھے بعض بیوقوف اس پٹھان کی طرح جس نے کہہ دیا تھا کہ خو محمد صاحب کا نماز خراب ہو گیا اس کو جائز نہیں سمجھتے مگر یہ حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کہہ کہہ کر بعض دفعہ شعر پڑھواتے تھے۔جہاد کو جاتے ہوئے خوش الحانوں سے کہہ کر شعر پڑھوانا تو حدیثوں میں کثرت سے ثابت ہے۔پھر حدی خوانی تو عربوں کی مشہور ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع نہیں فرمایا۔اونٹ شعر پر عاشق ہوتا ہے اور اسے سن کر تیز چلتا ہے تو اس قسم کی شعر خوانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ثابت ہے اپنے بے تکلف دوستوں میں میں بھی بچپن میں شعر پڑھ لیا کرتا تھا اب تو گلے کی تکلیف کی وجہ سے خوش آواز ہی باقی نہیں رہی شعر کیا پڑھنا ہے اور اگر ہو بھی تو مجلس میں شعر پڑھنے سے مجھے حجاب ہے مگر اس کے باوجود میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ میری فطرت کے خلاف ہے۔بچپن میں میں پڑھتا رہا ہوں لیکن جس طرح یہاں جلوسوں میں کیا جاتا ہے اس طرح نہ میں نے کبھی کہا ہے اور نہ میری فطرت اسے برداشت کر سکتی ہے۔ہاں بعض ادعیہ حدیثوں سے ثابت ہیں ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شعر بھی ہوتے تھے اور پڑھے بھی جاتے تھے اور وہی طریق اب تم بھی اختیا کر سکتے ہومگر آپ کے فعل پر زیادتی کی کیا ضرورت ہے۔جلوس کی صورت میں جمع ہو کر چلنا ثابت ہے اور پھر